انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے پیر کو ایف سی آر اے کی خلاف ورزی کے معاملے میں ایک بڑا کریک ڈاؤن کیا جس میں مہاراشٹر کے ایک ٹرسٹ اور ایک یمنی شہری شامل تھا۔ حکام کے مطابق نندربار ضلع اور ممبئی میں ایک درجن مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ یہ کارروائی جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم ٹرسٹ Jamia Islamia Ishatul Uloom,, (JIIU)، یمنی شہری الخادمی خالد ابراہیم صالح اور دیگر کے خلاف جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔
وزارت داخلہ نے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا ہے۔
سی این بی سی (ہندی )کی خبر کے مطابق ای ڈی کی تحقیقات منی لانڈرنگ کی روک تھام ایکٹ (PMLA) کے تحت کی جا رہی ہے۔ یہ مقدمہ نندوربار پولس اسٹیشن کے اکلکووا پولیس اسٹیشن کے ذریعہ درج کی گئی ایف آئی آر اور اس سال اپریل میں داخل کی گئی چارج شیٹ پر مبنی ہے۔ جانچ کے نتائج کی بنیاد پر ای ڈی نے کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ وزارت داخلہ نے اپنے حکم کے تحت 15 جولائی 2024 کو ٹرسٹ کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ منسوخ کر دیا تھا۔ وزارت نے پایا کہ ٹرسٹ غیر ملکی عطیات کو دیگر غیر ایف سی آر اے رجسٹرڈ این جی اوز کی طرف موڑ رہا ہے۔ اس کارروائی کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے معاملے کی تحقیقات تیز کر دیں۔بی جے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ کریت سومیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں ای ڈی کی کارروائی کا خیرمقدم کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ٹرسٹ کے ٹرسٹی شیل کمپنیوں کے ذریعے غیر شفاف لین دین کر رہے ہیں۔
دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ تلاشی کے دوران برآمد ہونے والے دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد کی ایف سی آر اے کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں اور مالیاتی لین دین میں بے ضابطگیوں کے سلسلے میں جانچ کی جا رہی ہے۔
Source:CNBCAwaz








