بالی ووڈ کی کئی مشہور شخصیات کے سوشل میڈیا پر ‘آل آئیز آن رفح’ کا پوسٹر شیئر کرنے کے بعد، ‘بائیکاٹ بالی ووڈ’ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا۔
اتوار کو اسرائیل نے رفح میں بے گھر فلسطینیوں کے کیمپ پر فضائی حملہ کیا جس میں 45 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد پوری دنیا سے غزہ میں فوری جنگ بندی کی اپیلیں آنے لگیں۔لوگوں کی بڑی تعداد نے سوش میڈیا پر ‘آل آئیز آن رفح’ کے پوسٹر کو شیئر کرنا شروع کر دیا اور کئی بالی ووڈ اداکاروں نے بھی ایسا ہی کیا۔
7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیلی فوج غزہ میں زمینی کارروائیاں کر رہی ہے اور اب یہ حملے غزہ کے علاقے رفح میں ہو رہے ہیں جہاں لاکھوں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اداکارہ عالیہ بھٹ نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ایک تصویر کے ساتھ ہیش ٹیگ all eyes on Rafah لکھا۔ رچا چڈھا لکھتی ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی لفظ نہیں ہے اور اس کی مذمت کی جانی چاہیے اگر دنیا صرف دیکھتی ہے تو وہ اس میں شریک ہے۔

پرینکا چوپڑا، سونم کپور، ملائیکہ اروڑہ، ترپتی ڈمری، سوناکشی سنہا، بھومی پیڈنیکر، رشمیکا مندنا، سوارا بھاسکر سمیت کئی مشہور شخصیات نے ‘آل آئیز آن رفح’ کا پوسٹر شیئر کیا ہے۔
رفح میں ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے بالی ووڈ کی مشہور شخصیات کی پوسٹس کے بعد انسٹاگرام پر ‘بائیکاٹ بالی ووڈ’ ٹرینڈ ہونے لگا۔ اس ٹرینڈ کی حمایت میں پوسٹ کرنے والے لکھ رہے ہیں کہ انہیں حماس کا تشدد کیوں نظر نہیں آتا؟
اداکارہ پوجا بھٹ کی ٹویٹ پر اس ٹرینڈ پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ‘بالی ووڈ بائیکاٹ’ ٹرینڈ کا اسکرین شاٹ پوسٹ کیا اور ایکس پر لکھا کہ یہ ایک بار پھر ہو رہا ہے۔ بالی ووڈ فلسطین میں تشدد کے خلاف اجتماعی طور پر بولنے کی قیمت چکا رہا ہے۔
بائیکاٹ بالی ووڈ کے بائیکاٹ کے تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب چیزیں ویسے ہی ہیں جیسے عام طور پر ہوتی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان روہت شرما کی اہلیہ ریتیکا سجدے نے بھی ‘آل آئیز آن رفح’ کی تصویر شیئر کی تھی اور بعد میں انہوں نے اس اسٹوری کو ڈیلیٹ کردیا۔
اس کے بعد روہت شرما ٹویٹر پر ٹرینڈ کرنے لگے اور کئی لوگوں نے لکھا کہ ریتیکاروہت شرما کا کریئر ڈبو دیں گی جب کہ کچھ لوگ ان کی حمایت میں بھی آگئے۔
کرکٹر یوزویندر چہل کی اہلیہ دھناشری نے بھی اپنی انسٹا اسٹوری میں ‘آل آئیز آن رفح’ کی تصویر پوسٹ کی ہے۔
اسرائیلی سفارت خانہ کا ردعمل
اس پر ہندوستان میں اسرائیلی سفارت خانے کی طرف سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ سفارت خانے نے لکھا ہے کہ اس مہم کو چلانے والوں کو حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی نظر نہیں آتے۔
ہندوستان میں اسرائیلی سفارتخانے نے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ "آپ کی آنکھیں ان 125 اسرائیلی مردوں، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو نہیں دیکھ پا رہی ہیں جنہیں حماس نے قید کر رکھا ہے۔ اسی وجہ سے تنازع شروع ہوا۔ تبصرہ کرنے سے پہلے یہ مکمل کہانی ہے۔” یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک کہ ہر یرغمال گھر واپس نہیں آ جاتا۔









