آسام کی سرگرم تنظیم آسام جاتیہ پریشد نے اس بات کی تصدیق کی کہمعروف سرکردہ سماجی کارکن اور پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید کے خلاف 16 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ یہ شکایات 16 اضلاع سے سامنے آئی ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے اے جے پی کے ترجمان ضیا الرحمن نے انکشاف کیا کہ سیدہ حمید کے خلاف آسام کے 16 اضلاع میں ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، ہم ان کے آسام مخالف اور فرقہ وارانہ بیان پر ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے کارکنان مختلف تھانوں میں شکایات کا اندراج جاری رکھیں گے۔
واضح رہے سیدہ حمید نے 24 اگست کو گوہاٹی میں ایک پروگرام کے دوران مبینہ طور پر متنازع بیان دیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا، ’’اگر بنگلہ دیشی آسام میں رہتے ہیں تو پھر مسئلہ کیا ہے؟‘‘ ان کے اس بیان نے ریاست میں جلتی پر تیل کا کام کیا اور علاقائی گروپوں کی طرف سے تنازعہ کھڑا کر دیا گیا ،اس بیان پر ان کے خلاف شدید ردعمل ہوا ،گزشتہ دنوں دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں آسام پر ایک پروگرام میں جہاں سیدہ حمید بھی موجود تھیں ہندوسینا کے ہڑدنگیوں نے رخنہ اندازی کی اور اشتعال انگیز نعرے لگائے ،پروگرام کو ڈسٹرب کیا گیا دوسری جانب آسام کی علاقائی تنظیموں نے الزام لگایا کہ وہ "آسامی شناخت کی توہین کر رہی ہیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔”
اے جے پی نے کہا کہ ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے اور مطالبہ کیا کہ پولیس عوامی امن کے خلاف جرائم سے متعلق دفعہ 195، عوامی فساد پھیلانے کے لیے 353 بیانات اور ہتک عزت کے لیے 356 اور بھارتیہ نیا سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کرے۔










