نئی دہلی:
وہاٹس ایپ نے کہا ہے کہ اس نے انڈیا میں مئی اور جون کے مہینے میں قواعد کی خلاف ورزی پر 20 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس کو بند کر دیا ہے۔
وہاٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ان میں سے 95 فیصد صارفین وہ تھے جنھوں نے کسی پیغام کو آگے بھیجنے کی حد کو بار بار تجاوز کیا تھا۔
وہاٹس ایپ کی جانب سے یہ اقدام انڈیا کے متنازع نئے آئی ٹی قواعد کے تحت اپنی پہلی ماہانہ تعمیلی رپورٹ میں پیش کیا گیا ہے۔
انڈیا دنیا میں وہاٹس ایپ کی ایک بڑی مارکیٹ ہے جہاں اس کے 40 کروڑ صارفین ہیں۔
فیس بک کی زیر ملکیت میسجنگ ایپ وہاٹس ایپ نے کہا ہے کہ اس کی ’اولین ترجیح‘ انڈیا میں اکاؤنٹس کو بڑے پیمانے پر نقصان دہ میسجز کو پھیلانے سے روکنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے وہاٹس ایپ ہر مہینے دنیا بھر میں آٹھ لاکھ کے قریب اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دیتا ہے۔
وہاٹس ایپ کے مطابق انڈیا میں بلاک ہونے والے 20 لاکھ اکاؤنٹ جو ’غیر معمولی شرح پر پیغامات بھیج رہے تھے‘ کو ایک ماہ یعنی 15 مئی سے 15 جون کے درمیان بند کیا گیا۔
انڈیا میں وہاٹس ایپ جعلی خبروں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ جعلی خبریں اور غلط معلومات گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں کو آگے بھیج دی جاتی ہیں اور ان کا مقابلہ کرنا عملی طور پر ناممکن ہے۔
ماضی میں گردش کرنے والے ایسے کئی پیغامات اور ویڈیوز کی وجہ سے انڈیا میں مشتعل ہجوم دیکھے گئے جن میں اموات بھی ہوئی ہیں۔
وہاٹس ایپ نے کہا ہے کہ صارفین کی جانب سے متعدد شکایات پر سروس نے اپنے پلیٹ فارم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کچھ ٹولز بھی مرتب کیے ہیں۔
وہاٹس ایپ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں انڈیا کے نئے آئی ٹی قواعد کی وجہ سے حکومت ہند کے ساتھ شدید لڑائی میں الجھی ہوئی ہیں۔
انڈیا کی جانب سے اس نئے قواعد کا اعلان فروری میں کیا گیا تھا جبکہ ان کا اطلاق مئی کے مہینے میں ہوا۔ ان نئے قوانین نے انڈیا میں اظہار رائے کی آزادی اور صارفین کی پرائیویسی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔
ان نئے قواعد کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی بدولت انٹرنیٹ پر موجود بہت سا ڈیٹا ہٹا سکتے ہیں لیکن حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان قواعد کا مقصد غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔











