گونڈا (ایجنسی) اتر پردیش کے گونڈا ضلع میں، ایک مقامی نوجوان نے سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں گستاخانہ تبصرہ کے کے بعد علاقہ میں غم و غصہ پھیل گیا۔ مشتعل لوگوں نے ملزم نوجوان کے گھر پر پتھراؤ شروع کردیا جس سے ضلع میں کشیدگی پھیل گئی۔ ضلع میں اضافی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے اور ضلع انتظامیہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انڈیا ٹی وی آن لائن کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ منگل کو مسلمانوں کے مبینہ طور پر پتھراؤ اور ملزم کے گھر پر حملہ کرنے کے بعد تنازعہ شروع ہوگیا۔ پولیس کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پالیا اور بعد میں ملزم رکی کو گرفتار کر لیا۔ جبکہ پتھراؤ میں ملوث 25 دیگر افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، پولیس نے بتایا کہ رِکی نے فیس بک پر پیغمبر اسلام کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کیے تھے، جس سے اقلیتی برادری میں غصہ پھیل گیا اور انہوں نے ملزم کے گھر پر پتھراؤ کیا۔
انڈیا ٹی وی نے آگے الزام لگایا کہ موقع پر پہنچی پولیس کی گاڑیوں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ ایس پی آکاش تومر نے بتایا کہ تشدد رات کے وقت چوک بازار علاقے میں ہوا، لیکن جلد ہی اس پر قابو پالیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی ایک ٹیم تعینات کی گئی ہے۔تومر نے کہا کہ یہ پوسٹ پیر کی رات رکی نے اپ لوڈ کی تھی، جو ایک چاؤمین اسٹال چلاتا ہے۔ ایس پی نے کہا، "ہم نے تین ایف آئی آر درج کی ہیں، ایک رِکی کے خلاف، دوسری پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف اور تیسری رکی پر حملہ کرنے والے نامعلوم افراد کے خلاف ،”








