لکھنؤ :(ایجنسی)
پانچویں مرحلے میں اب تک کا سب سے کم ووٹنگ ہوئی ہے ۔ اس مرحلے میں 54.80فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائےدہی کااستعمال کیا ہے ۔ اس مرحلے میں ڈیڑھ درجن سے زیادہ سینئر لیڈروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہوگئی۔ اس مرحلے میںکچھ مقامات سے اکا دکا واقعے اورای وی ایم میں خرابی کی خبروں کے درمیان ووٹنگ پرامن رہی۔ پانچویں مرحلے موں امیٹھی، رائے بریلی، سلطان پور، چترکوٹ، پرتاپ گڑھ، کوشامبی، پریاگ راج، بارہ بنکی، ایودھیا، بہرائچ، شراوستی اور گونڈا اضلاع کی 61 سیٹوں پر ووٹنگ ہوئی۔
پولنگ شروع ہونے کے کچھ دیر بعد کنڈا میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار گلشن یادو نے رگھوراج پرتاپ سنگھ عرف راجہ بھیا کے لوگوں پر ان کی گاڑی پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ انتخابات کے اختتام پر پریاگ راج کے کریلی میں دھماکے سے ایک شخص کی موت ہو گئی۔ تاہم پریاگ راج پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کا الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
پانچویں مرحلے میں چترکوٹ ضلع میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے (59.64 فیصد)، جبکہ سب سے کم ووٹنگ پریاگ راج میں (52.92 فیصد) رہی۔ دوسری طرف پریاگ راج ضلع کی الٰہ آباد نارتھ سیٹ پر سب سے کم ووٹنگ 38.35 فیصد رہی۔ چترکوٹ ضلع کی چترکوٹ سیٹ پر سب سے زیادہ ووٹنگ 62.27 فیصد رہی۔
ضابطہ اخلاق کی 549 شکایات، 91 مشینیں خراب
پانچویں مرحلے میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی 549 شکایات آئیں۔ اس میں 293 شکایات درست پائی گئیں، جن پر کارروائی کی گئی۔ اس دوران 91 ای وی ایم مشینوں میں خرابی پیدا ہوگئی جس کے بعد انہیں تبدیل کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ 475 وی وی پیٹ تبدیل کیے گئے۔
80 ہزار ووٹرز نے پوسٹل بیلٹ کا استعمال کیا۔ اس میں 59572 پوسٹل بیلٹ 80 سال سے زائد عمر کے ووٹرز، معذور ووٹرز، ضروری خدمات اور پولنگ عملہ کو دستیاب کرائے گئے، جس میں 52757 ووٹرز نے پوسٹل بیلٹ کا استعمال کیا۔ اسی طرح 27337 سروس ووٹرز کو پوسٹل بیلٹ بھی دستیاب کرائے گئے ہیں۔
اس مرحلے میں نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ، کابینی وزراء سدھارتھ ناتھ سنگھ، نند گوپال نندی، موتی سنگھ، مکٹ بہاری ورما کے بیٹے گورو ورما، رماپتی شاستری، سابق وزراءمیں اروند سنگھ گوپ، تیج نارائن پانڈے عرف پون پانڈے، فرید محفوظ قدوائی ، راگھوپرتاپ سنگھ ، پرمود تیواری کی بیٹی آردھنا مشرا، کرشنا پٹیل، پلوی پٹیل سمیت ڈیڑھ درجن سے زیادہ سینئر لیڈروں کی قسمت کا فیصلہ 10 مارچ کو ہوگا۔










