جے پور: ہریانہ میں میوات علاقہ میں دو مسلم نوجوانوں کو اغوا کر کے زندہ جلانے کے معاملے میں راجستھان پولیس نے 6 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ راجستھان پولیس کے عہدیداروں نے اس کی تصدیق کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ وہ ہریانہ پولیس کے کردار کی بھی تحقیقات کرے گی، جس نے مبینہ طور پر گائے کی اسمگلنگ کے معاملے میں متاثرین کو مشتبہ قرار دے کر زد و کوب کیا تھا۔میڈیا رپورٹوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نام نہاد گئو رکھشک ان دونوں کو ادھ مرا کرنے کے بعد ہریانہ کے ایک پولیس تھانے میں لاۓ تھے تاکہ ان کو گرفتار کرلیا جاۓ مگر پولیس نے ہاتھ کھڑے کردیے اور ان کو ہی سونپ دیا ورنہ ان کی جان بچ سکتی تھی۔
اگرچہ پولیس حکام تحقیقات کے بارے میں خاموش ہیں لیکن ذرائع نے بتایا کہ 6 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے اچھی طرح سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا، یہ الزام لگایا گیا ہے کہ راجستھان پولیس نے ہریانہ میں ملزم کی حاملہ بیوی سے مار پیٹ کی ہے، جس سے اس کا اسقاط حمل ہو گیا۔دوسری طرف راجستھان پولیس نے ایسے کسی واقعہ کی تردید کتے ہوے کہا کہ ہم توہاں گیے ہی نہیں








