نئی دہلی : (ایجنسی)
بی جے پی ، آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد نے تبدیلی مذہب کو اتر پردیش سے لے کر کیرالہ تک ایک بڑا مسئلہ بنا دیا ہے اور نام نہاد ’’لیو جہاد‘‘ کو روکنے کے لیے قوانین بنائے ہیں اور کچھ جگہوں پر اسے بنانے کی بات کر رہے ہیں ، لیکن حقیقت ان دعوؤں کے برعکس ہے۔
ستیہ ہندی ڈاٹ کام کے مطابق مسلم اور عیسائی اقلیتوں کے خلاف ہندو مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش میں اگرچہ یہ تنظیمیں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ ہندوؤں کا بڑے پیمانے پر مذہب تبدیل ہو رہی ہے یا اس کی کوشش کی جا رہی ہے ، کیرالہ کے اعدادوشمار یہ بتاتے ہیں کہ دھرم پریورتن کر کے ہندو بنانے والوں کی تعداد دوسرے مذہب اپنانے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔
ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام اور عیسائیت قبول کرنے والے جتنے ہیں، اس سے زیادہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام یا عیسائیت چھوڑ کر ہندو دھرم قبول کیا ہے ۔
’دی نیو انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، سال 2020 میں جتنے تبدیلی مذہب ہوئے ہیں، ان میں سے 47 فیصد معاملوں میں لوگ ہندو بنے ہیں ۔
ہندو مذہب قبول کرنے والوں پر ایک نظر ڈالنے سے کئی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں ۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ دلت عیسائی سے ہندو بنے ہیں۔ ان میں عیسائی چرا مر، عیسا’ی سمبھواور عیسائی پلایا ذات کے لوگ زیادہ تھے ۔
ایسا لگتا ہے کہ عیسائیوں کے لیے ذات پر مبنی ریزرویشن نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ ہندو بن گئے تاکہ انہیں نوکریوں اور تعلیم میں ریزرویشن کا فائدہ مل سکے۔
اس سے یہ بات واضح ہے کہ ان معاملات میں تبدیلی مذہب کی بڑی وجہ سماجی اور تعلیمی طور پر آگے بڑھنے کی خواہش ہے ، کسی کی معاشی حیثیت اور معاشرے میں کسی کے مقام کو آگے بڑھانا ہے۔ مسلمانوں سے ہندو ، جو مسلمان ہوئے ان میں سے 77
فیصد پہلے ہندو تھے۔ ان میں ایزوا ، تھیا اور نیئر ذات کے لوگ زیادہ تھے۔ یعنی ذات پات کے امتیاز سے نکلنے کے لیے ان لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ ان اعداد وشمار کی سیاسی اہمیت ہے ۔
بی جے پی اور آر ایس ایس نے پورے ملک میں ایسا ماحول بنا دیا ہے کہ دوسرے مذاہب کے نوجوان ہندو لڑکیوں سے دوستی کرکے ، اپنے بارے میں غلط معلومات دے کر اور ان کا مذہب تبدیل کروا کر شادی کر لیتے ہیں۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کی اصطلاح میں اسے ‘’لیو جہاد‘ کہا گیا۔ اس مبینہ ’لیوجہاد‘ کو روکنے کے لیے اترپردیش کی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اسمبلی سے ایک قانون پاس کرایا ، جس میں ایسی شادیوں پر پابندی عائد کئی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے یا جبراً مذہب تبدیل کرنے والوں کو سزا دینے کی بھی دفعات ہیں۔ کئی دیگر ریاستوں نے بھی کہا ہے کہ وہ ایسے قانون پر کام کر رہی ہیں۔ بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ سمیت کئی عدالتوں نے فیصلہ دیا کہ اگر دو بالغ باہمی رضامندی سے شادی کرتے ہیں تو اسے غیر قانونی نہیں کہا جا سکتا ، چاہے وہ الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھتے ہوں۔










