نئی دہلی ؍ کیف:(ایجنسی)
یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خار کیف میں یوکرین اور روسی فوجیوں کے درمیان جاری جنگ میں ایک ہندوستانی طالب علم کی موت ہو گئی ہے۔ وزارت خارجہ نے ٹویٹ کرکے یہ اطلاع دی۔ وزارت خارجہ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت متاثرہ خاندان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے ٹویٹ کیا ہے کہ ہندوستان کے سکریٹری خارجہ نے روس اور یوکرین کے سفیروں کو بلایا ہے اور ان کے سامنے ایک بار پھر اپنا مطالبہ رکھا ہے کہ خار کیف اور یوکرین کے دیگر شہروں میں پھنسے ہندوستانیوں کو فوری طور پر وہاں سے محفوظ نکالا جائے۔
باغچی نے کہا کہ روس اور یوکرین میں ہندوستان کے سفیر بھی اس کام میں لگے ہوئے ہیں۔
منگل کو روس نے خارکیف شہر میں فائرنگ تیز کردی گئی ہے اور بعض مقامات پر میزائل حملے بھی کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یوکرین کے دارالحکومت کیف میں بھی حالات خراب ہوتے جا رہے ہیں۔
بتا دیں کہ تقریباً 16000 ہندوستانی طلباء اور شہری اب بھی یوکرین میں پھنسے ہوئے ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں اگرچہ ہندوستانیوں کو کچھ طیاروں سے گھر لایا گیا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں پھنسے طلبہ ویڈیوز جاری کرتے ہوئے انہیں وہاں سے نکالنے کی فریاد کر رہے ہیں۔
خار کیف کے گورنر نے کہا – روس رہائشی علاقوں پر میزائلوں کی بارش کر رہا ہے

کیف: خارکیف کے گورنر نے کہا ہے کہ روسی فوج رہائشی علاقوں پر میزائلوں کی بارش کر رہی ہے۔ گورنر( Oleh Sinehubov ) نے کہا ہے کہ روسی فوج خار کیف کے رہائشی علاقوں کو میزائلوں سے نشانہ بنا رہی ہے۔ گراڈ میزائل ٹرک پرموجود آرٹلری سسٹم سے فائر کیے جاتے ہیں۔ اس سے ایک ساتھ درجنوں راکٹ فائر کیے جا سکتے ہیں۔
گورنر نے ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا ہے کہ روسی افواج نے یہاں انتظامی دفتر کے سامنے چوراہے پر فائرنگ کی ہے۔ حکام شہریوں کے جان و مال کے نقصان کا تخمینہ لگا رہے ہیں۔
مقامی ایمرجنسی حکام نے فیس بک پر لکھا کہ انتظامی دفتر پر حملے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ تاہم بی بی سی اس دعوے کی تصدیق نہیں کرسکا۔
سینہوبوف نے کہا، ’ہمارے دشمن کے پاس اس طرح کے فریب آمیز جنگی جرائم کے ارتکاب کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ ہماری فوج مضبوط ہے اور ہم اپنا دفاع کر رہے ہیں۔‘
جنیوا معاہدے کے مطابق جنگ کے دوران ایسے شہری اہداف پر حملہ کرنا جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ روس نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔










