مراد آباد :(ایجنسی)
مرادآباد میں سماج وادی پارٹی لیڈر اعظم خاں کے قریبی ساتھی اور ایس پی لیڈر یوسف ملک کے خلافایڈیشنل میونسپل کمشنر کے ساتھ بدامتیازی کرنےاور دھمکی دینے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ 25 ہزار کا انعام بھی رکھا گیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
26مارچ کو میونسپل ٹیم نے تھانہ کٹگھر کے علاقے شیو پوری میں ہاؤس اور واٹر ٹیکس بقایا ہونے پر جمال حسین کے مکان سیل کردیا تھا۔ جمال نے اس کارروائی کی مخالت کی اور اپنے رشتہ دار اورایس پی لیڈر یوسف کو اس کی جانکاری دی۔ اس کے بعد ملک پہلے اپنے رشتہ دار کے پاس پہنچے اور پھر انہیں ایڈیشنل میونسپل کمشنر کو فون ملا اور ان کےساتھ گالی گلوچ کی۔ انہیں جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی ۔ خود کو اعظم خاں کا دائیں بازو بھی بتایا ۔
یوسف نے اس کے لیے خود میونسپل کارپوریشن پر الزام لگایا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی یہاں رہتی ہے۔ وہ گھر پر تھی اور میونسپل ٹیم نے اس پر سیل لگا دی۔ جبکہ ہاؤس ٹیکس جمع ہے۔ کچھ بھی واجب الادا نہیں ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے ملازمین فون کالز پر بدتمیزی کر رہے ہیں اور ملازمین سیل کھولنے کے لیے پیسے مانگ رہے ہیں۔
یوسف نے کہا یہ میری بیٹی کا سسرال ہے۔ میری بیٹی صبح سے اندر بند ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے لوگ آئے اور اسے سیل کر کے چلے گئے۔ ہمارا ہاؤس ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ سب کچھ جمع ہے۔ میں نے میونسپل کارپوریشن کو فون کیا بدتمیزی پر اتر آئے، کوئی پانچ لاکھ روپے ہاؤس ٹیکس مانگ رہا ہے۔ کیا کوئی ایڈیشنل میونسپل کمشنر ہے، اس کا نام کیا ہے؟ انل کمار سنگھ ان کی ریکارڈنگ ہے۔ کہا تمہارے پاس 30 لاکھ روپے باقی ہیں۔ ہم نے کہا کہ یہ ہم پر کیوں ہے؟ میں یہ کروں گا، میں یہ کروں گا۔ پتا نہیں کیا گالی دینے لگے۔ میری بیٹی گھر کے اندر ہے۔ باہر سے بند ہمارا ٹیکس سب جمع ہے ۔
میونسپل کارپوریشن کے ملازمین نے ایس پی لیڈر یوسف ملک کے خلاف ایڈیشنل میونسپل کمشنر انل کمار سنگھ کے ساتھ بدسلوکی اور جان سے مارنے کی دھمکی دینے پر مظاہرہ کیا اور کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دفتر میں زبردست ہنگامہ کیا۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر کے مطابق ٹیکس کی عدم ادائیگی پر کارروائی کی گئی ہے۔ اس کے بعد یوسف ملک نے انہیں فون پر گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ خود کو اعظم خاں کا دایاں ہاتھ کہہ کر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ گھر کی سیل سے چھیڑ چھاڑ کرکے کوئی گھر کے اندر گھس گیا۔ دھمکیاں دینے، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور سیل کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔










