ممبئی :(ایجنسی)
این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے کہا ہے کہ بی جے پی ’دی کشمیر فائلز‘ فلم کو لے کر زہریلا ماحول بنا رہی ہے۔ پوار نے کہا ہے کہ بی جے پی وادی کشمیر سے کشمیری پنڈتوں کے اخراج کے حوالے سے فرضی پروپیگنڈہ کر رہی ہے۔
شرد پوار نے کہا ہے کہ ایسی فلم کو نمائش کے لیے منظوری نہیں دی جانی چاہیے تھی لیکن اسے ٹیکس میں چھوٹ بھی دی جا رہی ہے اور جن لوگوں پر ملک کو متحد رکھنے کی ذمہ داری ہے، وہی لوگ اس فلم کو دیکھنے کی تشہیر کر رہے ہیں۔
پوار نے یہ بات این سی پی کی دہلی یونٹ کے اقلیتی سیل کی میٹنگ میں کہی۔
کشمیر فائلز کے حوالے سے گزشتہ ایک ماہ سے بھارتی میڈیا اور سیاست میں زبردست ابال ہے۔ کانگریس نے بی جے پی پر اس فلم کے ذریعے نفرت پھیلانے کا الزام بھی لگایا ہے۔ وہیں بی جے پی کارکنوں نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے گھر کے باہر فلم سے متعلق ایک تبصرے کے خلاف احتجاج کیا۔
پوار نے میٹنگ میں کہا کہ کشمیری پنڈتوں کو وادی سے بھاگنا پڑا لیکن مسلمانوں کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں کشمیری پنڈتوں اور مسلمانوں پر حملوں کی ذمہ دار ہیں۔
اپوزیشن کے ایک سینئر لیڈر پوار نے کہا کہ اگر نریندر مودی حکومت واقعی کشمیری پنڈتوں کے بارے میں فکر مند ہے تو اسے ان کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ پوار نے سابق وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کو کشمیر کی بحث میں گھسیٹنے پر بی جے پی پر تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ جب وادی سے کشمیری پنڈتوں کا اخراج شروع ہوا تو وی پی سنگھ وزیر اعظم تھے اور ان کی حکومت کو بی جے پی کی حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے کہا کہ مفتی محمد سعید وزیر داخلہ تھے اور جگموہن گورنر تھے اور انہوں نے بعد میں بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا۔
دی کشمیر فائلز فلم کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی خوب چرچا ہے اور اس فلم کے حوالے سے ملک کے تمام اداکاروں، سیاستدانوں سمیت عام لوگوں کا ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ دہلی میں اروند کیجریوال کے گھر کے باہر بی جے پی کارکنوں کے مظاہرے کو لے کر بھی سیاست گرم ہوگئی ہے اور معاملہ دہلی ہائی کورٹ تک پہنچ گیا ہے۔










