لکھنؤ :(ایجنسی)
ملک بھر میں تہواروں کے موقع پر مذہبی جنون اور تشدد کے درمیان اترپردیش حکومت نے سختی بڑھا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پولیس افسران کے ساتھ میٹنگ کی، جس میں انہوں نے امن و امان سے متعلق کئی ہدایات دیں۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے ہدایات میں کہا ہے کہ تھانہ انچارج سے لے کر اے ڈی جی تک اگلے 24 گھنٹے کے اندر اپنے اپنے علاقے کے مذہبی رہنماؤں، سماج کے دیگر لوگوں سے بات چیت کریں تاکہ آنے والے تہواروں خاص کر عید اور اکثر ترتیا میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھی جاسکے۔
یوگی نے ٹویٹ میں لکھا کہ:’آنے والے دنوں میں کئی اہم مذہبی تہوار ہیں۔ عید اور اکشے ترتیا کا تہوار ایک ہی دن ہونے کا امکان ہے۔ ایسے میں موجودہ ماحول کے پیش نظر پولیس کو اضافی حساس ہونا پڑے گا۔‘
ماحول خراب کرنے والوں پر سختی کی جائے
اس کے علاوہ یوگی نے یہ بھی ہدایت دی کہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ’مذہبی پروگرام، پوجا وغیرہ صرف مقررہ جگہ پر ہی منعقد ہوں، اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سڑک، ٹریفک میں خلل ڈال کر کوئی مذہبی تقریب منعقد نہ ہو۔‘
ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے پولیس سے کہا کہ وہ شرارت پرمبنی بیانات جاری کرنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں۔ ماحول خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔ مہذب معاشرے میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
پولیس اہلکار اپنے اپنے علاقے میں قیام کریں
یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک اور حکم میں کہا ہے کہ’تحصیلدار، ایس ڈی ایم، ایس ایچ او یا سی او وغیرہ سبھی اپنی تعیناتی کے علاقے میں رات کو قیام کریں، اگر سرکاری رہائش ہے، تو وہاں ٹھہریں یا کرائے کا مکان لیں،لیکن رات میں اپنے ہی علاقے میں رہیں۔ اس انتظام کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنایا جائے۔‘
مائیک کے استعمال پر بھی ہدایات
اذان کے دوران مائیک کے استعمال کو لے کر کئی ریاستوں میں ہنگامہ ہے۔ یوگی نے مائیک کے استعمال پر کہا ہے،ہر ایک کو اپنی عبادت کے طریقے پر عمل آوری کی آزادی ہے۔ مائیک کااستعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مائیک کی آواز اس احاطے سے باہر نہ آئے۔ دوسرے لوگوں کو کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔ نئے مقامات پر مائیک کی اجازت نہ دیں۔
پولیس کی اجازت کے بغیر کوئی شوبھا یاترا نہیں
ایک اور واضح پیغام میں یوگی نے کہا ہے کہ ’بغیر اجازت کے کوئی بھی جلوس؍مذہبی جلوس نہیں نکالا جانا چاہیے۔ اجازت سے پہلے امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے منتظم سے حلف نامہ لیا جانا چاہیے۔ اجازت صرف ان مذہبی جلوسوں کو دی جائے۔ جو روایتی، نئے واقعات ہیں ان کو غیر ضروری اجازت نہ دی جائے۔
پولیس افسران کی چھٹیاں منسوخ
ایس ایچ او، سی او اور پولیس کیپٹن سے لے کر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ڈویژنل کمشنر تک تمام انتظامی؍پولیس افسران کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ 4 مئی تک کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔ جو لوگ اس وقت چھٹی پر ہیں انہیں اگلے 24 گھنٹوں میں پوسٹنگ کی جگہ پر واپس آنے کو بھی کہا گیا ہے۔










