نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فسادات کے ملزم طاہر حسین کے خلاف الزامات طے کر دیے ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین پر الزام عائد کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا کہ طاہر حسین نہ صرف سازشی تھا بلکہ ایک سرگرم فسادی بھی تھا۔ عدالت نے ملزمان کے خلاف مجرمانہ سازش، ہنگامہ آرائی، مہلک ہتھیاروں سے لیس، ڈکیتی، آگ لگا کر شرارت یا مکان کو تباہ کرنے کے ارادے سے دھماکہ خیز مواد سمیت مختلف جرائم میں فرد جرم عائد کی۔
آن لائن جن ستا کی خبر کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے الزامات طے کرتے ہوئے کہا، ’’ملزم طاہر حسین نہ صرف سازشی تھا بلکہ ایک سرگرم فسادی بھی تھا۔ وہ خاموش تماشائی نہیں تھا بلکہ فسادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا تھا اور غیر قانونی اجتماعات منعقد کرکے دیگر برادریوں کے لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے اکسا رہا تھا۔‘‘
پی ٹی آئی کے مطابق، حکم میںہائی کورٹ نے کہا، ’بادی النظرمیں ایسا لگتا ہے کہ فسادات سے متعلق واقعہ ایک منصوبہ بند سازش اور وسیع انتظامات کے ساتھ انجام دیا گیا تھا۔ طاہر کو بھڑکانے کے بعد فسادی اس کے اشتعال پر مزید پرتشدد ہو گئے اور پتھراؤ شروع کر دیا۔ کچھ فسادی طاہر کے گھر کی چھت سے پتھر، پیٹرول بم وغیرہ پھینک رہے تھے۔ اس لیے ان کے خلاف سازش کے علاوہ ہنگامہ آرائی اور آتش زنی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
طاہر حسین کے خلاف کھجوری خاص تھانے میں شکایت درج کرائی گئی۔ کرن نامی بزنس مین نے طاہر پر الزام لگایا تھا کہ25 فروری 2020 کو طاہر حسین کی قیادت میں ایک گروپ سازش کے تحت غیر قانونی طور پر بنایا گیا اور اس نے میری کمپنی کے گودام میں توڑ پھوڑ کے بعد آگ لگا دی۔ یہ گودام کراول نگر روڈ چاند باغ کے کھجوری خاص علاقے میں واقع تھا۔ طاہر اور انس، فیروز، جاوید، گلفام، شعیب عالم نے سازش کی تھی۔
بتادیں کہ فروری 2020 میں دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد دہلی میں فسادات ہوئے تھے، جس میں کئی لوگ مارے گئے تھے اور کئی زخمی ہوئے تھے، اس ہنگامے میں سابق کونسلر طاہر حسین بھی ملوث تھے اور طاہر کی جانب سے پیٹرول بم پھینکے گئے تھے۔ نوجوانوں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔










