نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی کے شاہین باغ میںایم سی ڈی تجاوزات ہٹاؤمہم کے تحت غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کرنے پہنچی تھی۔ لیکن ایم سی ڈی کو اپنی کارروائی روکنی پڑی کیونکہ مقامی شہریوں نے بلڈوزر کے سامنے بیٹھ کر اس کے خلاف احتجاج کیا۔ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ گیا ہے اور سپریم کورٹ نے بھی پوچھا ہے کہ جب سماعت کا وقت مقرر ہے تو بلڈوزر کیوں پہنچا؟ اسی دوران آپ ایم ایل اے امانت اللہ خاں بھی موقع پر پہنچ گئے اور کارروائی کی مخالفت کی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے امانت اللہ خاں نے کہا کہ یہاں کہیں بھی تجاوزات نہیں ہیں اور اگر ہیں تو ایم سی ڈی کے لوگ آکر دکھائیں۔ پی ڈبلیو ڈی کا روڈ میپ بھی ایم سی ڈی کے پاس ہوگا، اگر کوئی تجاوزات ہے تو بتائیں، میں ہٹا دوں گا، یہ سیاست کیوں کررہے ہیں۔ ایم سی ڈی انتخابات کے لیے بی جے پی کے پاس کوئی ایشو نہیں ہے، اس لیے بی جے پی نے اوکھلا اور ہندو مسلم کا انتخاب کیا۔ یہ کارروائی صرف ہندو اور مسلمان بنانے کے لیے کی جا رہی ہے کیونکہ امانت اللہ کے نام پر یہ ہندو اور مسلمان کریں گے۔
امانت اللہ خاں نے مزید کہا کہ میری درخواست پر لوگ پہلے ہی تجاوزات ہٹا چکے ہیں۔ اس سے قبل یہاں کی ایک مسجد کے باہر ‘وجوہ خانہ اور بیت الخلاء کو پولیس کی موجودگی میں ہٹا دیا گیا تھا۔ میں نے اپنا JCB لگا کر ہٹا دیا۔ جب تجاوزات نہیں تو یہاں کیوں آئے ہیں؟ صرف سیاست کرنے کے لیے؟
دوسری جانب بی جے پی کے رکن اسمبلی منوج تیواری نے بلڈوزر کارروائی کے لیے امانت اللہ خاں کو نشانہ بنایا ہے۔ منوج تیواری نے کہا،’جو بھی سڑکوں پر غیر قانونی تجاوزات کو روکنے کے لیے آگے آ رہا ہے، ان کی جائیداد کو ضبط کر لیا جانا چاہیے، چاہے وہ منوج تیواری ہی کیوں نہ ہو۔ اگر یہ سب چلتا رہا تو یوں ہوگا کہ لوگ بیچ سڑکوں پر آجائیں گے اور آپ چل نہیں پائیں گے۔‘










