لکھنؤ :(ایجنسی)
لکھنؤ یونیورسٹی میں ہندی کے پروفیسر اور دلت مفکر ڈاکٹر روی کانت پر بدھ کو حملہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق لکھنؤ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ لیڈر کارتک پانڈے نے یونیورسٹی کیمپس میں انہیںتھپڑ مارا ہے۔
کچھ دن پہلے اے بی وی پی کے کارکنوں نے پروفیسر روی کانت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ پروفیسر روی کانت نے ستیہ ہندی کے ایک پروگرام میں کاشی وشوناتھ مندر-گیان واپی مسجد تنازع پر تبصرہ کیا تھا۔
اے بی وی پی کے ارکان نے ان کے ریمارک کے اس حصے پر اعتراض کیا جس میں انہوں نے پتابھی سیتارامیا کی ایک کتاب ’فیدرز اینڈ سٹونز‘ کی ایک کہانی کا حوالہ دیا تھا۔
حملے کے بعد پروفیسر روی کانت نے حسن گنج کے تھانہ انچارج کو شکایت دی ہے اور ان سے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کو کہا ہے۔ شکایت میں انہوں نے کہا ہے کہ 18 مئی کو صبح تقریباً 1 بجے وہ پراکٹر آفس کے سامنے سے کلاس لینے جا رہے تھے اور اس دوران ان کے ساتھ سیکورٹی گارڈ بھی تھے۔ اس کے بعد اچانک کارتک پانڈے نامی طالب علم نے ذات پر مبنی گالی دیتے ہوئے ان پر جان لیوا حملہ کر دیا۔
انہوں نے لکھا کہ 10 مئی کو بھی اے بی وی پی کے کچھ طلباء اور دیگر بیرونی عناصر نے یونیورسٹی کیمپس میں ذات پات پر مبنی تبصروں کے ساتھ قاتلانہ حملہ کرنے کی کوشش کی تھی اور اسی دن شام کو انہوں نے حسن گنج پولیس اسٹیشن میں شکایت بھی کی تھی۔
پروفیسر روی کانت نے شکایت میں لکھا ہے کہ 10 مئی کو دی گئی تحریر پر آج تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور آج پھر ایک قاتلانہ سازش کے ساتھ ان پر حملہ کیا گیا ہے اور انتظامیہ نے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ 10 مئی اور 18 مئی کو پیش آنے والے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر کارتک پانڈے اور حملہ آوروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے قانونی کارروائی کی جائے جن کے نام پچھلی تحریر میں درج تھے تاکہ ان کی اور ان کے اہل خانہ کی جان ومال کی حفاظت ہوسکے ۔









