رامپور :(ایجنسی)
دو سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں بند ایس پی کے سینئر لیڈر اعظم خاں جمعہ کو سیتا پور جیل سے رہا ہو کر اپنے شہر رامپور پہنچے۔ اعظم خاں کو سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک کیس میں عبوری ضمانت دی تھی۔ اعظم خاں 26 فروری 2020 سے اتر پردیش کی سیتا پور جیل میں بند تھے۔
جیسے ہی اعظم خاں سیتا پور جیل سے باہر آئے ان کے حامیوں کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی اور انہوں نے اعظم خاں کی حمایت میں نعرے لگائے۔ اعظم خاں کے آبائی شہر رام پور میں ان کے حامیوں اور ایس پی کارکنوں کی بڑی تعداد بھی جمع ہوئی اور ان کی گھرواپسی کا جشن منایا۔
رام پور پہنچنے کے بعد پریس کانفرنس میں اعظم خاں نے کہا کہ انہیں سپریم کورٹ سے انصاف ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کیا ہے اور ہر بار فتح حاصل کی ہے۔ اعظم خاں نے کہا کہ ان کی تباہی میں ان کے اپنوں کا ہی ہاتھ ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جنہوں نے ان کے لئے کچھ کیا ان کا شکریہ اور جنہوں نے نہیں کیا ان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ اعظم خاں نے کہاکہ وہ ملک ، ضمیر اور قوم کو بیچنے والے شخص نہیں ہیں ۔
واضح رہے کہ پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے صدر شیو پال سنگھ یادو بھی اعظم خاں سے ملنے سیتا پور جیل کے باہر پہنچے۔ سپریم کورٹ نے بھی اعظم خاں کو رہا نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اعظم خاں کے خلاف 89 مقدمات درج تھے۔
گزشتہ دنوں اعظم کے کئی حامیوں نے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو پر اعظم خاں کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کرنے کا الزام لگاچکے ہیں ۔
جیل میں اعظم خاں سے ملنے گئے سابق کابینہ وزیر شیو پال سنگھ یادو نے بھی کہا تھا کہ ایس پی کو اعظم کی رہائی کے لیے لڑنا چاہیے تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔
کیا کریں گے اعظم خاں؟

اتر پردیش کی سیاست میں ایسے چرچے ہیں کہ جیل سے باہر آنے کے بعد اعظم خاں ایس پی سے الگ ہو سکتے ہیں۔ کچھ دن پہلے اعظم خاں کے کئی حامیوں نے ایس پی کو الوداع کہہ دیا تھا۔ ایسے میں بی ایس پی سربراہ مایاوتی کا اعظم خاں کی قید کا معاملہ اٹھانا کچھ سیاسی قیاس آرائیوں کو ہوا دیتا ہے۔
اعظم خاں کے شہر رامپور میں سیاسی قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ جیل سے باہر آنے کے بعد اعظم خاں کیا قدم اٹھائیں گے۔ کچھ دن پہلے رام پور میں کانگریس لیڈروں نے اعظم خاں کے پارٹی میں خیرمقدم جیسے پوسٹر لگائے تھے۔









