وارانسی :(ایجنسی)
کاشی وشوناتھ – گیان واپی مسجد سے جڑے کچھ معاملوں کی پیروی کررہے وکیل ہری شنکر جین اور وشنو جین کو ہٹانے کا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ خبر ہے کہ باپ -بیٹا کی جوڑی اب وشوا ویدک سناتن سنگھ کے معاملات میں وکالت نہیں کرے گی۔ یہ جانکاری وی وی ایس ایس کے صدر جتیندر سنگھ ویشن نے دی ہے۔ گیان واپی کیس کی اہم سماعت 8 جولائی کو ہونے والی ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق وی وی ایس ایس کے صدر ویشن نے منگل کو کہا ہے کہ تنظیم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہری شنکر جین اور وشنو جین ان کے معاملوں کے وکیل نہیں ہوں گے۔ اس میں وارانسی میں کاشی وشوناتھ-گیان واپی مسجد سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وی وی ایس ایس ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں 50 سے زائد مقدمات لڑ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ویشن نے کہا،’ہم نے ملک بھر کی مختلف عدالتوں میں ہماری طرف سے دائر تمام مقدمات سے ہری شنکر جین اور وشنو شنکر جین کا ’وکلات نامہ ‘منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے’ وی وی ایس ایس نے گیان واپی سے متعلق 7 معاملے درج کیے ہیں۔
گیان واپی مسجد سے متعلق وی وی ایس ایس کی طرف سے داخل کردہ تازہ عرضیوں میں سے ایک میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ پورا علاقہ ہندوؤں کو دینے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ یہ درخواست اس دعویٰ کے بعد دائر کی گئی تھی کہ ویڈیو گرافی سروے کے دوران گیان واپی مسجد کے احاطے میں ایک ’شیولنگ‘ پایا گیا تھا۔
وکیل باپ بیٹے کی جوڑی بہت سے معاملات کے مرکز میں رہی ہے، جن میں لکھنؤ کی ٹیلہ والی مسجد سے لے کر دھار کی بھوج شالہ، آگرہ میں تاج محل اور متھرا میں شاہی عید گاہ شامل ہیں، جہاں مساجد کے مندر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔









