کانپور : (ایجنسی)
اتر پردیش کے کانپور میں احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے تشدد کے معاملے میں پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سختی کے بعد پولیس نے 1000 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جن میں 40 نامزد ہیں۔ تشدد کے دوران 20 سے زائد وائرل ویڈیوز کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی دیر رات تک کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کی 10 ٹیمیں ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھرپور چھاپے مار رہی ہیں۔ پولیس نے اب تک 18 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پیغمبر اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ’توہین آمیز‘ تبصرے کے خلاف جمعہ 03 جون کو جمعہ کی نماز ک بعد کانپور میں تشدد بھڑک گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ کانپور کے پریڈ، نئی سڑک اور یتیم خانہ علاقے میں تشدد ہوا تھا ۔
کانپور پولیس کمشنر وجے مینا کا کہنا ہے کہ، ’دکانوں میں نصب سی سی ٹی وی کا ڈی وی آر ملنے کے بعد تمام ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس معاملے میں تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں دو پولیس کی طرف سے اور ایک متاثرہ فریق کی طرف سے تحریر ملنے کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ ‘
پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ ’’شہر میں حالات معمول پر ہیں اور آج تمام دکانیں باقاعدہ کھلی رہیں گی۔ جبکہ صدر کا پروگرام جائے وقوع سے صرف 300 میٹر کے فاصلے پر ہونا ہے، اس لیے وہاں بھی سخت حفاظتی انتظامات ہیں۔‘‘
پولیس نے بیکن گنج تھانے میں قتل کی کوشش، فساد سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ جس میں احتشام کباڑی، ذیشان، عاقب، نظام کے علاوہ ایم ایم جوہر فینس ایسوسی ایشن کے حیات ظفر کا نام شامل ہے۔ پولیس نے 40 نامی اور ایک ہزار نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کانپور پولیس کمشنر وجے پرکاش مینا نے کہا کہ ’’کانپور ہنگامہ آرائی کے ملزمین کی جائیداد پر نہ صرف بلڈوزر چلے گا بلکہ گینگسٹر ایکٹ کے تحت بھی کارروائی کی جائے گی۔سی پی نے کہا کہ اس وقت پورے علاقے میں امن ہے۔ پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہے۔
ہنومان چالیسیا پڑھنے کا اعلان
کانپور میں اس ہنگامے کے بعد وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے بڑی ہنومان چالیسیا پڑھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پاٹھ کانپور میں ہنگامہ کی جگہ سے کچھ فاصلے پر کیا جائے گا۔ شام 5:00 بجے منعقد کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے بھیڑ کو اکٹھا کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔









