کانپور:(ایجنسی )
اترپردیش کےوزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی طرف سے یوپی کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو گینگسٹر ایکٹ اور نیشنل سیکورٹی ایکٹ (این ایس اے) کو ’’فساد کرنے والوں‘‘ کے خلاف دائر کرنے کی ہدایت جاری کرنے کے چند گھنٹے بعد کانپور میں کم از کم 36 مسلمانوں کے خلاف این ایس اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ان 36 ناموں میں حیات ظفر ہاشمی شامل ہیں، جو مولانا محمد جوہر علی فینز ایسوسی ایشن کے قومی صدر اور شہر کے ایک مقامی مسلم کارکن ہیں۔ پولیس ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ ہاشمی نے ’لوگوں کو اکسایا، جس کی وجہ سے پتھراؤ ہوا اور دو گروپوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس میں متعدد پولیس اہلکاروں سمیت 30 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔‘‘ ہاشمی کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا ہے۔ ایم ایم اے جوہر فینز ایسوسی ایشن کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
انگلش نیوز پورٹل مکتوب میڈیاکے مطابق جوائنٹ پولیس کمشنر آنند پرکاش تیواری نے صحافیوں کو بتایا کہ کسی بھی مجرم کو بخشا نہیں جائے گا، ہم ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ایف آئی آر میں نامزد دیگر ملزمان میں احتشام کباڑی، ذیشان، عاقب، نظام قریشی، عزیز، عامر جاوید، عمران کالے، عدنان، عمران، انس، ساجد، بلال اور یوسف منصوری سمیت دیگر شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، وزیراعلیٰ نے افسران کو ’ان کی جائیداد ضبط کرنے‘ اور ’ضرورت پڑنے پر بلڈوزر استعمال کرنے‘ کی ہدایت بھی جاری کی۔ مسلم گروپوں اورانسانی حقوق کے کارکنوں نے پولیس کی کارروائی کو ’امتیازی سلوک‘قرار دیا۔ کانپور کے قاضی مولانا عبدالقدوس نے میڈیا سے گفتگو کے دوران الزام لگایا کہ تشدد ہندوتوا کے ہجوم نے شروع کیا تھا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔









