پلول میوات ( مبارک میواتی )
سرزمین میوات کی عظیم علمی و ادبی شخصیت، نابغہ روزگار یکتائے زمانہ میوات کی شان، ادیب و اریب اور قلمی شہسوار استاد الاساتذہ ،الداعی الشهير شیخ الحدیث وبانی دارالعلوم میوات نوح مولانا محمد اسحاق اٹاوڑی ابھی کچھ گھنٹے قبل اپنے ہزارہا شاگردان اور مریدین کو اشک بار چھوڑ کر نلہڑ اسپتال میں داعئ اجل کو لبیک کہتے ہوئے اس دارفانی سے دار البقاء کی طرف کوچ کر گئے۔ یہ خبر دل پر صاعقہ رنج و الم بن کر گری لیکن ایک مؤمن کو اپنے ربّ کریم کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے ہر مصبیت کے وقت یہ کہنے کا حکم ہے إنا لله وإنا إليه راجعون۔إن لله ماأخذ وله مااعطى وكل شئ عنده بأجل مسمى۔
یقیناً حضرت شیخ الحدیث کی وفات سے میوات کا علمی وتبلیغی حلقہ یتیم سا ہوگیا ہے، کیونکہ حضرت مولانا حقیقی طور پر ایک ہر فن مولا شخصیت کے مالک تھے جو صدیوں میں پیداہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی مغفرت فرماکر درجات کو بلند فرمائے اور حضرت والا کو اپنی شایانِ شان جزاء خیر عطاء اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے۔ حضرت رحمہ اللہ کی نمازِ جنازہ یاسین میؤ ڈگری کالج میں عصر کی نماز کے بعد اداکی گئی۔
مولانا اسحاق اٹاؤڑی ایک علمی و ادبی شخصیت کے مالک تھے، آپ نے عرب و عجم میں تبلیغی جماعت کے کے راستے میں مولانا یوسف رح کے مشورہ سے اپنی پوری زندگی کھپا دی، مولانا مرحوم درجنوں کتابوں کے مصنف ہیں، آپ تقریباً دو ہزار آٹھ سے امیر شریعت ہریانہ، پنجاب، ہماچل ،چنڈی گڑھ رہے ہیں، اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی، مفتی محمد زاہد حسین قاسمی، جمعیۃ علماء متحدہ پنجاب کے جنرل سیکریٹری مولانا یحییٰ کریمی ، دار العلوم محمدیہ میل کھیڑلا کے شیخ الحدیث مولانا راشد قاسمی،کے علاوہ مرکز نظام الدین سے بھی ایک جماعت نے شرکت فرمائی، ہزاروں نم آنکھوں کے ساتھ مولانا اسحاق اٹاؤڑی کو سپرد خاک کر دیا گیا، مولانا مرحوم کے بڑے صاحبزادے مولانا خالد بے نماز جنازہ ادا کرائی۔









