شاملی؍مظفر نگر :(ایجنسی)
اتر پردیش کے شاملی ضلع میں پرتھوی راج چوہان کے مجسمے کی نقاب کشائی کو لے کر تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ پروگرام کی تشہیری مواد میں پرتھوی راج چوہان کو راجپوت سمراٹ بتانے پر گوجر سماج کے کچھ لوگ سوشل میڈیا پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس پروگرام کی دعوت نامہ کے لیے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے مواد میں پرتھوی راج چوہان کو راجپوت سمراٹ لکھا گیا ہے، لیکن گوجر سماج کے لوگ چوہان کی مورتی کی نقاب کشائی کے پروگرام کو لفظ راجپوت سے جوڑنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔
درحقیقت، شاملی ضلع کے گڑھی پختہ تھانہ علاقے کے دُلہ کھیڑی گاؤں میں 7 جون کو پرتھوی راج چوہان کے مجسمے کی نقاب کشائی کی جانی ہے۔ گاؤں والوں نے بھی مورتی کے لیے تقریباً پانچ لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔ لیکن نقاب کشائی کے لیے تیار کیے گئے بینر پوسٹر وغیرہ میں پرتھوی راج چوہان کو راجپوت سمراٹ لکھا گیا ہے۔
اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم بھی چھڑ گئی ہے۔ شاملی پولیس کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی شکایتوں کی بھرمار ہوگئی ہے۔ اب گوجر برادری کے لوگ بھی پروگرام منسوخ کرنے اور سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
منتظمین نےبدل دیئے پوسٹر
پروگرام کے منتظمین میں شامل دلہ کھیڑی گاؤں کے سیٹو رانا نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر گوجر سماج کے ذریعہ کی جارہی مخالفت کی جانکاری ملی تھی، جس کے بعد تمام ذمہ دار لوگوں کی رضامندی سے نئے بینر تیار کئے گئے ہیں۔ جس میں پرتھوی راج چوہان کو ہندو ہردے سمراٹ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جو کسی ذات پات اور برادری سے متاثر نہیں ہیں۔
5 لاکھ خرچ کئے
دوسری جانب گاؤں کے نریندر چوہان نے بتایا کہ مورتی کی خریداری اور تنصیب میں گاؤں والوں نے تقریباً 5 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں۔گاؤں کے سربراہ پنکج رانا نے بتایا کہ مورتی کی نقاب کشائی سے علاقے میں خوشی اور سکون ہے۔ پرتھوی راج چوہان کا مجسمہ آپس میں امن اور ہم آہنگی ہے۔ 7 جون کو مجسمہ کی نقاب کشائی کے پروگرام کو لے کر کسی ذات برادری میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
یہ ایک سیاسی اسٹنٹ ہے
دلہ کھیڑی کی بھارتیہ کسان یونین کے کسان رہنما رویندر رانا کا کہنا ہے کہ مجسمے کی نقاب کشائی کے نیچے پرتھوی راج چوہان راجپوت لکھے جانے پر سوشل میڈیا پر اعتراض کیا جا رہا ہے لیکن جب پرتھوی راج چوہان راجپوت ہیں تو کسی کو کیا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہی جنگ جاری ہے۔ دلہ کھیڑی گاؤں میں کسی بھی طرف کشیدگی نہیں ہے۔ گاؤں میں پیارومحبت کا ماحول ہے۔ ہر کوئی اپنے گھر میں خوشی سے رہ رہا ہے۔ یہ ایک سیاسی اسٹنٹ ہے اور کچھ نہیں۔









