ممبئی: (نمائندہ خصوصی)
پیغمبر اسلامﷺ ، ام المومنین حضرت عائشہؓ اور واقعہ معراج کے تعلق سے گستاخی کے خلاف مسلمانان ہند کے اضطراب کے ساتھ ساتھ پورے عالم عرب اور عالم اسلام میں غم وغصہ اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بڑے پیمانے پر احتجاج کے بعد بی جے پی نے دونوں لیڈروں کو پارٹی سے نکال دیا ہےاور ان دونوں گستاخوں نے بھی اپنی طرف سے صفائیاں پیش کی ہیں۔مسلمان ان دونوں کے پارٹی سے نکالے جانے سے مطمئن نہیں ہیں، ان کا مطالبہ ہے کہ ان لوگوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ پھر کوئی اس طرح کی جرأت نہ کرسکے۔
موصولہ خبروں کے مطابق ہفتہ کی شام ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے ٹوئٹر پر #Stopinsulting_ProphetMuhammad(پیغمبر اسلام کی توہین بند کرو) ہیش ٹیگ کے ذریعہ ٹرینڈ چلایا گیا تھا جس کے بعد عالم اسلام میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ٹوئٹر پر کل سے اب تک مشرق وسطیٰ میں ’إلا رسول الله يا مودي ‘ ( اے مودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ذرہ برابر بھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہمارا مال و متاع سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و حرمت ہے اور یہی ریڈ لائن ہے)ٹرینڈ کررہا ہے۔ ٹوئٹر پر مسلمانوں کے احتجاج میں عالم عرب کے بڑے عالم دین بھی شامل ہوئے اور انہوں نے ہندوستان میں گستاخی کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر کی۔عالم عرب کے مسلمانوں نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کی مسلمانوں کے خلاف پالیسی کی توسیع ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس کا نوٹس لیاگیا۔
عمان کے مفتی اعظم احمد بن حمدالخلیلی نے لکھا کہ ’’ہندوستان میں حکومت کرنے والی انتہا پسند جماعت کے سرکاری ترجمان کا پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف گستاخی اور فحش گوئی کرہ ارض کے مشرق ومغرب میں بسنے والے تمام مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے یہ ایسا معاملہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کو ایک ساتھ اُٹھ کھڑا ہوناچاہئے‘‘۔
ادھر قطر اور کویت کی وزارت خارجہ نے ہندوستانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج درج کرایا ہے ۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہندوستانی سفیر نے قطر کی حکومت کو مطلع کیا ہے کہ گستاخی سے متعلق ٹوئٹ حکومت ہند کی پالیسی کی عکاسی نہیں کرتے۔
موصولہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ کئی عرب اور اسلامی ملکوں میں شان رسالت میں گستاخی اور مسلمانان ہند پر ظلم کے خلاف ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کردیا گیا ہے۔ لیبیا کے دارالافتاء نے بھی بائیکاٹ کی حمایت میں فتویٰ جاری کیا ہے۔ دریں اثناء بی جے پی نے بی جے پی نے آج اتوارکے روز کہا ہے کہ پارٹی سبھی مذاہب کا احترام کرتی ہے، وہ کسی بھی مذہب یا کسی مذہبی شخص کی توہین کی سخت مذمت کرتی ہے۔
بی جے پی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی پارٹی کسی بھی فرقے یا مذہب کی توہین کرنے والے کسی بھی نظریہ کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی ایسے لوگوں اور ان کے نظریہ کو فروغ نہیں دیتی ہے۔ حالانکہ پارٹی نے کسی حادثہ یا تبصرہ کا کوئی راست طور پر ذکر نہیں کیا۔بی جے پی جنرل سکریٹری نے واضح الفاظ میں کہا کہ پارٹی سبھی مذاہب کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی شاندار تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہزاروں سالوں سے ہر مذہب کا احترام ہوتا آیا ہے۔ ملک کی مٹی میں ہر مذہب کی نشونما ہوئی ہے۔
ارون سنگھ نے زور دے کر کہا کہ ان کی پارٹی کسی بھی مذہب کے کسی بھی مذہبی آزادی کے خلاف کئے گئے تبصرہ کی سخت مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کے آئین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے آئین میں ہر شہری کو اس کی پسند کے کسی بھی مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔بی جے پی جنرل سکریٹری نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک اس سال اپنی آزادی کے75ویں سال کا جشن منا رہا ہے۔ ان کی پارٹی ہندوستان کو ایک عظیم ملک بنانے کے لئے پوری طرح سے پابند عہد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں رہنے والا ہر شہری برابر ہے اور سبھی پورے احترام کے ساتھ رہتے ہیں۔
ادھر گستاخی کے دونوں مرتکبین نے بھی اپنی اپنی صفائی پیش کی ہیں ، نوین کمار جندل نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا ہے۔ بی جے پی کی وضاحت اور دونوں گستاخوں پر کارروائی کے خلاف بھکت برہم ہیں اور ’شیم اون بی جے پی‘ ہیش ٹیگ کے ذریعے ٹوئٹر پر اپنی خباثت ظاہر کررہے ہیں۔ وہیں آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر گستاخانِ رسالت ﷺ کے خلاف مسلسل سرگرم ہیں اور ٹوئٹر پر معاملے کو اجاگرکررہے ہیں۔









