آگرہ: (ایجنسی)
کانپور میں بھیانک فرقہ وارانہ تشدد کی آگ ابھی بجھی نہیں تھی کہ آگرہ سے بھی دو برادریوں کے درمیان تصادم کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ معاملہ تاج گنج تھانہ علاقہ کا ہے جہاں دو برادریوں کے درمیان پتھراؤ ہوا۔ اس پتھراؤ کا لائیو ویڈیو بھی وائرل کیا گیا ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ یہ جھگڑا دو بائیک سواروں کے درمیان شروع ہوا جو جلد ہی دو برادریوں کے درمیان لڑائی میں بدل گیا۔ اس کے بعد علاقے میں کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس فورس کو تعینات کر دیا گیا۔ اس معاملے میں پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے 4 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
واقعہ پر آگرہ کے ایس ایس پی سدھیر کمار نے بتایا کہ علاقے میں سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے، جس کی وجہ سے الگ الگ سمتوں سے آنے والے دو موٹر سائیکل سواروں کے درمیان جھگڑا ہوگیا، ان میں سے ایک کو معمولی چوٹ آئی اور کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس فورس کو بھی تعینات کیا گیا ہے اور وہ خود بھی وہاں موجود ہیں۔
اس سے قبل کانپور میں بھی اسی طرح کی جھڑپ دیکھنے میں آئی تھی۔ کانپور میں 03 جون کو نماز جمعہ کے بعد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے کے خلاف احتجاج کیا گیا جس میں تشدد پھوٹ پڑا۔ اس معاملے میں پولیس نے 40 نامزد افراد سمیت 1000 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس اس معاملے میں اب تک 36 لوگوں کو گرفتار کر چکی ہے۔
اس سے پہلے بھی آگرہ بحث میں رہا ہے۔ حال ہی میں تاج محل میں نماز ادا کرتے ہوئے 4 لوگوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ آگرہ تاج محل میں بند کمروں کے دروازے کھولنے کی عرضی کو لے کر بھی بحث میں تھا۔









