مالے :(ایجنسی)
اسلامی ملک مالدیپ کی اپوزیشن نے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان پر ہنگامہ آرائی کے درمیان پارلیمنٹ میں ہنگامی قرارداد پیش کی ہے۔ یہ قرارداد نوپور شرما کے بی جے پی کی ترجمان ہوتے ہوئے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع تبصرے کے خلاف لائی گئی ۔ جہاں مالدیپ کی ابراہیم محمد صالح حکومت اس معاملے پر کسی قسم کا ردعمل دینے سے گریز کر رہی ہے، وہیں تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
ہنگامی قرارداد مادواری کے رکن پارلیمنٹ آدم شریف عمر نے پارلیمنٹ میں لے کر آئے جو منظور نہ ہو سکی۔ پیر کی صبح پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کرتے ہوئے شریف نے زور دے کر کہا کہ بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما نے پیغمبر اسلام کے خلاف ایک متنازع بیان دیا ہے۔
انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کیا کہ جہاں تقریباً تمام ممالک پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے تبصرے پر ہندوستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، مالدیپ کی حکومت اس پر خاموش ہے۔
‘مالدیپ کی حکومت خاموش کیوں؟
انہوں نے کہا کہ ’’یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ مالدیپ نے ایک اسلامی ملک کے طور پر پیغمبر اسلام کی توہین پر ایک لفظ بھی نہیں بولا ہے، جب کہ ہندوستانی مسلمانوں، رہنماؤں اور اسلامی ممالک کے شہریوں نے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔‘‘ کچھ ممالک کی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر بھارتی سفیروں کو طلب کیا ہے اور کچھ ممالک میں سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی ہے جس میں بھارت کے خلاف کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔
مالدیپ کی پارلیمنٹ میں لائی گئی اس تجویز پر ووٹنگ میں 43 ارکان پارلیمنٹ نے حصہ لیا۔ 33 ارکان پارلیمنٹ نے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا اور حمایت میں صرف 10 ووٹ پڑے۔ تحریک کی منظوری کے لیے 23 ووٹ درکار تھے۔
مالدیپ کی دو پارٹیوں(پی پی ایم اور پی این سی )کے اتحاد پروگریسو کانگریس کولیشن، نے ٹوئٹر پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ہندوستان کی حکمران جماعت بی جے پی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اتحاد نے اپنے بیان میں لکھا ہے کہ نوپور شرما کا ایسا بیان ہندوستان میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا، نسل پرستی اور ذات پات کے تشدد کا حصہ ہے۔ اس طرح کے واقعات جنوبی ایشیا کے خطے میں بھارت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہو رہے ہیں جو کہ گزشتہ 75 سالوں سے کثرت میں وحد ت کا ملک ہے ۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’ہم بی جے پی پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایسے حقیقی مسائل کو حل کرے اور مسلم آبادی کے لیے ملک میں ایک محفوظ ماحول پیدا کرے۔‘‘ پیغمبر اسلام کے خلاف ریمارکس دنیا کے تمام مسلمانوں کے دلوں پر حملہ ہے اور اسے نظرانداز نہیں کیا جائے گا۔ پروگریسو کانگریس کولیشن دنیا بھر میں مسلمانوں کے تحفظ اور حقوق کی وکالت جاری رکھے گا۔
ملائیشیا کی ادھالاتھ پارٹی (اے پی) نے بھی بی جے پی کے ترجمان کی طرف سے پیغمبر اسلام کے بارے میں کئے گئے قابل اعتراض ریمارکس پر نوپور شرما کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اے پی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام کی شادیوں کے بارے میں غلط بیانات دینا اور ان کے نام کو بدنام کرنا پوری مسلم کمیونٹی کے خلاف ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی مسلمان اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین برداشت نہیں کرے گا۔ پارٹی نے اپنے بیان میں کہا، ‘سیاسی جماعت بی جے پی نے ماضی میں بھی عوامی سطح پر اسلام کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اسی پارٹی کے لیڈر ہیں۔
جہاں مالدیپ کی اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر بھارتی حکومت کو گھیر رہی ہیں وہیں ملک کی ابراہیم محمد صالح حکومت اس معاملے پر کسی قسم کے ردعمل سے گریز کر رہی ہے۔









