وارانسی :(ایجنسی)
اترپردیش کے وارانسی میں 16 سال پہلے ہوئے سیریل بم دھماکوں کے معاملہ میں غازی آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ولی اللہ خان کو پھانسی کی سزا سنائی ہے ۔ اس کے علاوہ ولی االلہ کو ایک دوسرے معاملہ میں عمرقید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ بتادیں کہ سال 2006 میں وارانسی میں ہوئے سیریل بم دھماکوں میں 20 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی تھی اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی لوگ ہوئے تھے۔ غازی آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جتیندر کمار سنہا نے ولی اللہ خان کو آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت درج دو معاملات میں سزا کا اعلان کیا ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ وارانسی سیریل بم دھماکوں کے کیس میں ملزم ولی اللہ کو غازی آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے گزشتہ چار جون کو قصوروار قرار دیا تھا ۔ وہیں پیر (چھ جون) کو سزا پر فیصلہ ہونے والا تھا ۔ سال 2006 میں وارانسی میں سنکٹ موچن مندر، دشاشومیدھ گھاٹ اور ریلوے اسٹیشن پر دھماکوں میں 18 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی تھی ۔ وہیں ان دھماکوں میں 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے ۔
جبکہ وارانسی سیریل بم دھماکہ معاملہ کو لے کر بم اسکواڈ نے کورٹ کو بتایا تھا کہ دھماکہ بہت بھیانک تھا ۔ وہیں اس معاملہ میں 16 سال کی سماعت کے دوران 121 گواہ پیش کئے گئے ۔ دفاعی فریق کی جانب سے ولی اللہ خان کے اہل خانہ نے بھی گواہی دی تھی۔ اس کے ماں باپ اور بیوی نے کہا تھا کہ اس کو پولیس نے پریاگ راج کے پھولپور میں واقع مدرسہ سے گرفتار کیا تھا ۔
7 مارچ 2006 کو وارانسی میں سنکٹ موچن مندر اور ریلوے اسٹیشن پر ہوئے دھماکوں کے بعد افراتفری مچ گئی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی دشاشومیدھ گھاٹ پر کوکر بم ملا تھا۔ وہیں یہ معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم پر سماعت کیلئے غازی آباد منتقل کیا گیا تھا ۔
قابل ذکر ہے کہ ولی اللہ پریاگ راج کے پھولپور کے اسلام آباد گاوں کا رہنے والا ہے۔ اس کے چار بھائی الگ الگ جگہوں پر رہتے ہیں ۔ وہیں ولی اللہ کی اہلیہ اپنے دو بچوں کے ساتھ کسی رشتہ دار کے یہاں رہتی ہے ۔ ولی اللہ کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد اس کے گاوں میں سناٹا چھا گیا ہے ۔









