نئی دہلی :(ایجنسی)
نوپور شرما کے پیغمبر اسلام سے متعلق بیان پر تنازع کے بعد اب بی جے پی ایکشن میں آگئی ہے۔ بی جے پی نے یوپی میں اپنے ترجمانوں پر لگام کس دی ہے۔ بی جے پی نے اپنے ترجمانوں سے کہا ہے کہ وہ کانپور تشدد اور نوپور شرما معاملے پر بیان نہ دیں۔ بی جے پی نے اپنے ترجمانوں سے کہا ہے کہ وہ ذہن میں رکھیں کہ حساس معاملے پر بات کرتے ہوئے کسی مذہب کی توہین نہیں ہونی چاہیے۔
دراصل نوپور شرما نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی ڈیبیٹ کے دوران پیغمبر اسلام پر بیان دیا تھا۔ اس پر کافی تنازع بھی ہوا۔ عرب ممالک نے بھی اس بیان کی مذمت کی ہے۔ اس کے بعد بی جے پی نے نوپور شرما کو معطل کر دیا۔ بی جے پی نے کہا تھا کہ اس طرح کے ریمارکس بی جے پی کے بنیادی خیال کے خلاف ہیں۔ تاہم بعد میں نوپور شرما نے اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے اسے واپس لے لیا۔
دوسری جانب بی جے پی نوپور شرما کے بیان پر تنازع کے بعد پارٹی تنقید کی زد میں ہے۔ ایسے میں اب بی جے پی نے ترجمانوں پر لگام کسنے کی تیاری کر لی ہے۔ بی جے پی نے ہدایات جاری کر کے اپنے ترجمانوں کو نوپور شرما، نوین جندل اور کانپور تشدد کیس پر بولنے سے روک دیا ہے۔
اس کے علاوہ بی جے پی کے ترجمانوں سے کہا گیا ہے کہ حساس مذہبی مسائل پر بات کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی بھی مذہب کی توہین نہ ہو۔ بی جے پی نے اپنے لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی مذہبی مسئلہ پر بات کرنے سے پہلے اجازت لیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی معاملے پر میڈیا میں بحث یا بیان دینے کی لائن پارٹی خود طے کرے گی۔









