نئی دہلی :(ایجنسی)
بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں کئے گئے تبصرے پر تنازع بڑھتا جا رہا ہے۔ پہلے تو عرب ممالک نے اس ریمارکس پر اعتراض کیا اور بھارت سے معافی کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ نے بھارت کو نصیحت کرتے ہوئے رواداری کا سبق بھی سکھایا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم تمام مذاہب کے احترام اور رواداری کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
دراصل ایک پاکستانی صحافی نے بی جے پی کے معطل لیڈر نوپور شرما اور نوین کمار جندل کے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کیے گئے ریمارکس پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے جواب طلب کیا تھا۔ اس کے جواب میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان، اسٹیفن دوجارک نے پیر کو یومیہ پریس بریفنگ کے دوران کہا، ’میں نےاسٹورز دیکھی ہیں۔ میں نے خود یہ تبصرہ نہیں دیکھا، لیکن میرا مطلب ہے اور میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ ہم تمام مذاہب کے احترام اور رواداری کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘
عرب ممالک نے بی جے پی کے دونوں لیڈروں کے ریمارکس پر سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ ساتھ ہی کویت میں بھی ہندوستانی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ کئی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جن میں بھارتی مصنوعات کو سپر اسٹورز سے ہٹاتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور ترجمانوں کے تبصروں کی مذمت کی گئی ہے۔ عرب میڈیا اسے سفارتی طوفان قرار دے رہا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بی جے پی کے ترجمان کے ریمارکس کے خلاف ٹویٹ کر کے بھارت سے جواب طلب کیا تھا۔ تاہم بھارت نے پاکستان کو دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے یہاں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ ساتھ ہی اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کو سخت جواب دیتے ہوئے ہندوستان نے ان کے بیان پر ناراضگی کا اظہار کیا۔









