نئی دہلی :(ایجنسی)
پیغمبر اسلام محمد ؐ کو لے کر بی جے پی لیڈرں کے بیان پر مچے تنازع کے درمیان ترکی سرکار نے بھی سخت رد عمل دیا ہے ۔
ترکی کی حکمراں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) کے ترجمان اونیر سیلک نے کہا ہے کہ ہم ہندوستان کی حکمران جماعت کے رہنما کے تضحیک آمیز بیانات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے ایک کے بعد ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی توہین ہے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی بھی توہین ہے۔
انہوں نے بی جے پی لیڈروں پر سخت کارروائی کا خیر مقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم پارٹی سے لیڈروں کو نکالے جانے اور حکومت ہند کی طرف سے ان کے بیانات کی مذمت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘
سیلک نے ٹویٹ کیا، ’ہمیں امید ہے کہ حکومت ہند ملک میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کو روکنے اور مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔‘
آپ کو بتاتے چلیں کہ بی جے پی لیڈروں کے پیغمبر اسلام پر بیان کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عرب اور اسلامی ممالک متحرک ہو رہے ہیں اور ان بیانات کی مذمت کر رہے ہیں۔
اب تک کئی ممالک نے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع ریمارکس پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان میں ایران، عراق، کویت، قطر، سعودی عرب، عمان، متحدہ عرب امارات، اردن، افغانستان، بحرین، مالدیپ، لیبیا اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ بی جے پی نے ریمارکس کرنے والے لیڈروں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔
اس معاملے نے سفارتی سطح پر بھی طول پکڑ لیا۔ کئی ممالک نے اپنے ممالک میں موجود ہندوستانی سفیروں کو طلب کرکے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ 57 رکنی مسلم ممالک کی تنظیم آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ ریمارکس پر اعتراض کیا۔
بھارت کا گھیراؤ کرتے ہوئے او آئی سی نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے خلاف ضروری اقدامات کریں۔
بھارت نے بھی او آئی سی کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اسے یکسر مسترد کرتا ہے۔ بھارت نے او آئی سی کے ریمارکس کو محرک، گمراہ کن اور شرارتی قرار دیا۔









