نئی دہلی:(ایجنسی)
پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے سے جڑا تنازع فی الحال تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بی جے پی کے دو لیڈروں کے مبینہ ریمارکس پر خلیجی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ ممالک نے بھارتی سفیر کو طلب کرکے ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ بی جے پی فی الحال پورے معاملے کو لے کر ’دفاعی‘ موڈ میں ہے۔ معاملہ کے طول پکڑنے کے بعد بی جے پی نے دونوں لیڈروں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ جہاں ایک ٹی وی ڈیبیٹ کے دوران تبصرہ کرنے والی نوپور شرما کو معطل کردیا گیا ہے،وہیں نوین کمار جندل کو پارٹی نے نکال دیا ہے ۔ تبصرہ تنازع پر این ڈی ٹی وی کے سامنے اپنی رائے جاتے ہوئے بالی ووڈ اداکار نصیرالدین شاہ نے کہاکہ اس پورے معاملے میں دیر سے کارروائی کرنے میں سرکار نے قریب ایک ہفتہ کاوقت لگا دیا۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے بیان پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش جیسےممالک میں سامنے آتے ہیں ۔ اس قسم کی بات یہاں اعلیٰ سطح پر نہیں ہوتی۔ نوپور شرما کے بارے میں، نصیر شاہ نے کہا کہ وہ ’فرینج عنصر‘ نہیں ہیں، وہ بی جے پی کی قومی ترجمان ہیں۔(تھیں)
نوپور نے کہا ہے کہ ہندو دیوتاؤں کے خلاف کیے گئے تبصروں کی وجہ سے انہیں تکلیف ہوئی اور انہوں نے ایسی بات کہی۔ اس پر نصیر نے کہا کہ آپ مجھے کوئی ایسا بیان/ریکارڈنگ دکھائیں جس میں مسلمانوں نے ہندو دیوی دیوتاؤں پر کچھ کہا ہو۔ نصیرالدین شاہ نے کہا کہ میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے، اگر وہ سماج میں پھیلتی نفرت کو روکنا چاہتے ہیں تو پی ایم نریندر مودی کو آگے آنا چاہیے۔ ایک سوال کے جواب میں کہ حالیہ دنوں میں مختلف معاملات پر دونوں طرف سے جارحانہ بیانات دینے میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی کتنی ذمہ داری ہے، نصیر نے کہا کہ میں اس معاملے میں نیوز چینلز اور سوشل میڈیا کی تمام تر ذمہ داری قبول کرتا ہوں، یہ معاملہ کس نے دیا؟ ایک جارحانہ نظر، اس تنازعہ پر ہندو سماج سے مضبوط آواز اٹھانی چاہیے۔
ایک اور سوال پر نصیرشاہ نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان اپنے حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ آخر ہم سب کو ہندوستانی کیوں نہیں دیکھتے؟ گروگرام میں نماز پڑھنے کا معاملہ ماضی میں زیر بحث رہا تھا۔









