جموں :(ایجنسی)
جموں و کشمیر کے بھدرواہ اور کشتواڑ میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کر دی گئی ہیں اور کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے فوج کو بھی بلانا پڑا اور فوج نے بھدرواہ میں فلیگ مارچ کیا ہے۔
کشیدگی کی وجہ یہ ہے کہ بھدرواہ میں ایک مسلمان عالم نے بی جے پی لیڈر نوپور شرما کا سر قلم کرنے کی بات کہی تھی۔ نوپور شرما نے پیغمبر اسلام محمدؐ کے خلاف ایک متنازع بیان دیا تھا اور اس پر مسلم مذہبی رہنما نے یہ بات کہی تھی۔
دراصل جموں کے بھدروارہ میں واقع ایک مسجد سے اشتعال انگیز اعلان کے ایک مبینہ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد علاقہ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ گزشتہ جمعرات کو احتیاط کے طور پر علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا تھا ۔ وہیں فلیگ مارچ کرنے کیلئے فوج بلالی گئی تھی ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق افسران نے بتایا کہ بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما کے ذریعہ پیغمبر اسلام کو لے کر کئے گئے قابل اعتراض تبصرہ کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا، جہاں مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریر کی گئی تھی ۔ وہیں کچھ دیر بعد ہی اس تقریر کا ایک چھوٹا سا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگ گیا تھا۔
اے این آئی کے مطابق معاملہ میں دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں ۔ افسران کے مطابق حالات کنٹرول میں ہیں ۔ احتیاطی طور پر کرفیو لگادیا گیا ہے اور کشتواڑ اور رامبن ضلع میں انٹرنیٹ سروس کو بند کردیا گیا ہے ۔
وہیں مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے لوگوں سے امن و امان کو بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے ۔ اودھمپور لوک سبھا سے ممبر پارلیمنٹ جتیندر سنگھ نے کہا کہ ڈوڈہ کے ضلع افسر اور ایس ایس پی بھدروارہ میں خیمہ زن ہیں اور حالات کی نگرانی کررہے ہیں
۔









