کانپور :(ایجنسی)
کانپور میں تشدد کے بعد انتظامیہ نے تشدد کے معاملے میں کارروائی کی ہے۔ انتظامیہ نے محمد اشتیاق نامی شخص کی غیر قانونی تعمیرات پر بلڈوزر چلایا ہے۔ اشتیاق کانپور تشدد کےکلیدی ملزم حیات ظفر ہاشمی کا قریبی ہے۔
جن ستہ کی رپورٹ کے مطابق 3 جون کو مسلم کمیونٹی کے لوگوں کی بڑی تعداد نے کانپور میں ایک مقامی بازار کو بند کرانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اس کے بعد دونوں برادریوں کے لوگ آمنے سامنے آگئے اور پتھراؤ اور تشدد ہوا۔
یہ تشدد ایک ایسے دن ہوا جب صدر رام ناتھ کووند، وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کانپور میں موجود تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے کئی لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے اور کئی لوگوں کو گرفتار بھی کیا ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ حیات ظفر ہاشمی مولانا محمد ظفر علی فینز ایسوسی ایشن کے قومی صدر ہیں۔ ہاشمی نے بازار بند کرانے کی کال دی تھی۔ یہ کال بی جے پی لیڈر نوپور شرما کے پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں کئے گئے تبصرے کے پیش نظر کی گئی تھی۔
ہاشمی پر لوگوں کو اکسانے کا الزام ہے اور اس کے بعد پتھراؤ کا واقعہ ہوا اور دو برادریوں کے لوگ آمنے سامنے آگئے۔ اس دوران پتھراؤ اور ہنگامہ آرائی میں 30 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے جن میں انسپکٹر اور کچھ دیگر پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
کفن پہن کر سڑکوں پر نکلیں گے
کانپور شہر قاضی عبدالقدوس نے کہا تھا کہ اگر کسی کے گھر پر بلڈوزر چلا تو مسلم کمیونٹی کے لوگ سروں پر کفن باندھ کر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم قانون نہیں توڑیں گے لیکن اگر ظلم ہوتا ہے اور ہمارے گھر گرائے جاتے ہیں تو ہم مرنے کو تیار ہیں۔
وہیں اتر پردیش کے اے ڈی جی (لاء اینڈ آرڈر) پرشانت کمار نے کہا تھا کہ جو لوگ کانپور میں ہنگامہ آرائی میں ملوث تھے، ان کے خلاف گینگسٹر ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی، ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی اور اس پر غیر قانونی تعمیرات ہونے کی صورت میں اسے مہندم کردیا جائے گا۔









