سنبھل :(ایجنسی)
جمعہ کو نماز کے بعد نوپور شرما کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھر کی کئی ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات بھی پیش آئے اور کئی مقامات پر قابل اعتراض نعرے بھی لگائے گئے۔ اس کے ساتھ ہی کئی ریاستوں میں پولیس کو حالات پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ جھارکھنڈ میں بھی پولیس نے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے ہوا میں گولی چلائی۔ ساتھ ہی ایس پی اور اے آئی ایم آئی ایم کے ممبران پارلیمنٹ نے نوپور شرما کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے ایم پی شفیق الرحمن برق نے کہا، ’’جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں وہ اپنی مرضی سے کر رہے ہیں اور ہر جگہ اپنے جذبات کے مطابق کر رہے ہیں۔ اب حکومت کو سوچنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ماحول کو خراب کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی بلکہ احتجاج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ یہ ناانصافی ہے۔ پتھر مارنا اچھی بات نہیں لیکن آدمی جو کرتا ہے وہ مجبوراً کرتاہے۔ پتھراؤ دونوں طرف سے ہوا ہے لیکن صرف مسلمانوں کو مجرم بنانا درست نہیں ہے۔ ان کی گرفتاری میں تاخیر تشدد کا باعث بن رہی ہے ۔‘‘
ساتھ ہی اے آئی ایم آئی ایم کے ممبرپارلیمنٹ نے پھانسی کی مانگ کی ہے۔ اورنگ آباد، مہاراشٹر سے اے آئی ایم آئی ایم کے ایم پی امتیاز جلیل نے کہا، ’’اسلام امن کا مذہب ہے، لوگ ناراض ہیں۔ نوپور شرما کو پھانسی دی جائے۔ اگر اسے آسانی سے جانے دیا جائے تو ایسی باتیں نہیں رکیں گی۔ کسی بھی مذہب، فرقے کے خلاف ایسے ریمارکس کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے قانون لایا جانا چاہیے۔‘‘
دوسری طرف، دہلی کی جامع مسجد میں احتجاج کے بارے میں، ڈی سی پی سینٹرل ڈسٹرکٹ شویتا چوہان نے کہا، ’آئی پی سی کی دفعہ 188 کے تحت معطل بی جے پی لیڈر نوپور شرما اور برخاست لیڈر نوین جندل کے اشتعال انگیز ریمارکس پر جامع مسجد میں کل کے احتجاج کے پیش نظر نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مظاہرین کی شناخت کی جا رہی ہے۔‘
آزاد رکن پارلیمنٹ نونیت رانا نے نوپور شرما تنازع پر کہا کہ نوپور شرما نے معافی مانگ لی ہے اور پارٹی نے ان کے خلاف کارروائی بھی کی ہے۔ لیکن یہ تشدد اب کیوں ہو رہا ہے؟ سیاسی فائدے کے لیے تشدد کیا جا رہا ہے۔
وہیں اتر پردیش کے اے ڈی جی لا ءاینڈ آرڈر پرشانت کمار نے کہا کہ اب تک یوپی میں تشدد میں ملوث 227 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مرادآباد، ہاتھرس، پریاگ راج، سہارنپور، فیروز آباد اور امبیڈکر نگر سے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔









