نئی دہلی :(ایجنسی)
گجرات کے آنند ضلع میں فرقہ وارانہ تصادم کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل اور تین دیگر زخمی ہو گئے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے اس معاملے میں 14 لوگوں کو گرفتار کیا ہے، جب کہ پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس کے گولے بھی داغے۔ ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں۔ پولیس نے حساس مقامات کی نشاندہی کی ہے اور بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔
ایک اہلکار نے اتوار کو معلومات دیتے ہوئےکہا،’ہفتہ کی رات بورسد قصبے میں ایک متنازع پلاٹ پر اینٹیں ڈالنے کو لے کر جھڑپ ہوگئی۔ اس تناظر میں پولیس نے 14 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی آر پٹیل نے کہا کہ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے تقریباً 50 آنسو گیس اور 30 ربڑ کی گولیاں چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ قصبے میں بھاری سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے اور حالات قابو میں ہیں۔
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے کہا، ’ہفتے کی رات تقریباً 9:30 بجے، ایک کمیونٹی کے کچھ لوگ ایک متنازعہ پلاٹ پر اینٹیں بچھا رہے تھے۔ دوسری برادری کے کچھ لوگوں نے اس کی مخالفت کی جس کے بعد دونوں فریقین میں ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ بعد ازاں جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ فریقین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور دونوں برادریوں کے لوگوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
تشدد میں ایک پولیس کانسٹیبل اور ایک دوسرے شخص کو چاقو مار کر زخمی کر دیا گیا اور دو دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اہلکار نے بتایا کہ پولیس کانسٹیبل شدید زخمی ہو گیا۔ اسے اور تین دیگر زخمیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے سلسلے میں اب تک کم از کم 14 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس نے شہر میں 15 حساس مقامات کی نشاندہی کی ہے اور وہاں پر بھاری سکیورٹی تعینات کر دی ہے۔ اہلکار نے بتایا کہ ریاستی ریزرو پولیس فورس (ایس آر پی) کی دو کمپنیاں بھی متاثرہ علاقوں میں سیکورٹی کے لیے تعینات کی گئی ہیں۔









