نئی دہلی :(ایجنسی)
نیشنل ہیرالڈ نیوز پیپر سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی آج انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے سامنے پیش ہوئے۔ نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی ان سے پوچھ گچھ کی۔ لیکن اس دوران کانگریس نے ای ڈی کی تفتیش کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ، ورکنگ کمیٹی کے ارکان اور سینئر لیڈر بھی راہل گاندھی کے ساتھ ای ڈی کے دفتر جانے کی کوشش کی۔ تاہم، پولیس نے لوٹین زون سے ای ڈی آفس کی طرف جانے والی سڑکوں کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔
بتا دیں کہ نیشنل ہیرالڈ کیس میں راہل گاندھی اور سونیا گاندھی کو پوچھ گچھ کے لیے نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ جس کے خلاف کانگریس دہلی سمیت ملک کے 25 ای ڈی دفاتر پر احتجاج کیا۔ اس کے علاوہ کانگریس کارکنان جموں اور بنگلورو میں مرکز کے ذریعہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مبینہ غلط استعمال کے خلاف راہل گاندھی کی حمایت میں احتجاج کر رہے ہیں۔ کانگریس نے اس احتجاج کو ’ستیہ گرہ‘ کا نام دیا ہے۔
راہل سےملنے پہنچی پرینکا
نیشنل ہیرالڈ کیس میں ای ڈی کے سامنے پیش ہونے سے قبل کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا بھی پارٹی لیڈر اور اپنے بھائی راہل گاندھی سے ملنے ان کی رہائش گاہ پہنچی تھیں، جس کے بعد دونوں ایک ساتھ پارٹی ہیڈکوارٹر پہنچے۔
راہل کے گھر کے باہر لگے پوسٹر

دوسری طرف کانگریس کارکنوں نے راہل گاندھی کے گھر کے باہر پوسٹر لگا دیے ہیں۔ راہل کی تصویر کے ساتھ اس پوسٹر میں لکھا ہے – ’سچ جھکے گا نہیں‘، ساتھ ہی کانگریس دفتر کے ارد گرد کے علاقے میں بھی پوسٹر لگائے گئے ہیں، جس پر لکھا ہے کہ ’پیارے مودی اور امت شاہ، یہ راہل گاندھی ہیں، جھکے گا نہیں،‘ ’میں ساورکر نہیں ہوں، میں راہل گاندھی ہوں۔‘
اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس لیڈر ہریش راوت نے کہا ’’ اگر کانگریس اپنے لیڈر کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف نہیں لڑ سکتی ہے تو جوملک کے عوام کے خلاف جو ناانصافی ہو رہی ہے اس کے خلاف کیسے لڑیں گے ۔‘‘
یہ اپوزیشن کی آواز کو مکمل طور پر دبانے کی کوشش ہے۔ ہم اس کوشش کا مقابلہ کریں گے۔ ایک طرح سے یہ ملک کی دوسری جنگ آزادی ہے۔ یہ ہمیں جیل میں ڈال سکتے ہیں لیکن ہم اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔
وہیں چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل بھی دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر پہنچ چکے ہیں۔
راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ اشوک گہلوت نے کہا،’’کون سا الزام لگایا گیا ہے؟ الزام بھی سیاست سےمتاثر ہے۔ پورے ملک میں ای ڈی کے چھاپے پڑ رہے ہیں۔ یہ کب تک چلے گا۔‘‘
کانگریس لیڈر دگ وجے سنگھ نے کہا،’جب -جب بی جے پی اور مودی ڈرتے ہیں، وہ پولیس کو آگے کرتے ہیں۔ آگے ہم عوام کی لڑائی لڑیں گے۔ یہ کیس ہے ہی نہیں …کوئی ایف آئی آر ہے کیا؟ یہ کیس مودی حکومت نے 2014میں شروع کیا اور انہی کی سرکار نے بغیر کوئی ثبوت ملے کیس کو ختم کردیا۔
کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا، ’ای ڈی نے راہل جی کو بلایا ہے، ہمیں اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ جائیں گے، ہم بھی ان کے ساتھ جائیں گے۔ کسی کے ساتھ جانا کوئی جرم نہیں ہے۔ وہ زبردستی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ فساد کرنا ہمارا ارادہ نہیں ہے، یہ سب بی جے پی کرتی ہے ، ہم پرامن احتجاج کریں گے ۔‘
ای ڈی نے پوچھے 8 سوال
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نیشنل ہیرالڈ کیس سے متعلق سوالات کا جواب دینے ای ڈی کے دفتر پہنچے ۔ وہیں کانگریس پارٹی کے حامی ملک بھر میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس نے دہلی میں مظاہرے کی اجازت نہیں دی ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے ای ڈی کی پوچھ گچھ جاری ہے۔ یہ سارا عمل ڈپٹی ڈائریکٹر رینک کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔ کانگریس کے سابق صدر سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رینک کا ایک افسر پوچھ گچھ کرے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ تفتیشی ایجنسی کے 3 افسر راہل سے سوالات کر رہے ہیں۔
وہیں کانگریس پارٹی کے حامی اس کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ تاہم پولیس نے دہلی میں مظاہرے کی اجازت نہیں دی ہے۔
یہ سوالات راہل سے پوچھے جا رہے ہیں۔
- اے جے ایل میں آپ کی پوزیشن کیا تھی؟
- آپ کے ینگ انڈیاz میں کیا کردار ہے؟
- آپ کے نام پر شیئرز کیوں ہیں؟
- کیا آپ نے پہلے کبھی شیئر ہولڈرز کے ساتھ میٹنگ کی ہے، اگر نہیں کی تو کیوں؟
-کانگریس نے ینگ انڈیا کو قرض کیوں دیا؟
-کانگریس نیشنل ہیرالڈ کو کیوں دوبارہ زندہ کرنا چاہتی تھی؟
کیا آپ کانگریس کی طرف سے دیے گئے قرض کے بارے میں معلومات دے سکتے ہیں؟
کیا آپ اے جے ایل اور نیشنل ہیرالڈ کی جائیدادوں کے بارے میں تفصیلات بتا سکتے ہیں؟









