نئی دہلی: (ایجنسی)
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا (ڈبلیو پی آئی) کے رہنما جاوید محمد کو گزشتہ ہفتے پریاگ راج میں تشدد کے لیے حراست میں لیے جانے اور شہر کے حکام کی جانب سے ان کے گھر کو توڑے جانے کے بعد، ان کی بیٹی اور طلبہ کارکن آفرین فاطمہ نے جارحانہ انداز اختیار کر لیا ہے۔
ان کے والد جاوید محمد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ جمعہ کو ہونے والے تشدد کا ایک اہم کلیدی ملزم ہے۔ انہوں نے ان تمام الزامات کو ’من گھڑت‘قرار دیا اور کہا کہ ان کے پریوار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے کیونکہ انہوں نے حکومت اور ملک میں ’بڑھتی ہوئی عدم برداشت‘ پر تنقید کی۔
جمعرات کو فون پر دی پرنٹ سے بات کرتے ہوئے، 23 سالہ فاطمہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اتوار کو ان کے گھر کوگرانا مناسب نہیں تھا۔
وہ کہتی ہیں، ’’ضلع حکام اور پولیس نے میرے والد کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا ہے اور عید کے لیے گھر بھی آئے ہیں۔ اور ایک دن انہیں احساس ہوا کہ ہمارا گھر غیر قانونی ہے۔‘‘
فرنٹرنٹی کی قومی سکریٹری، ڈبلیو پی آئی کی طلبہ ونگ، کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے ساتھ ساتھ 2019 کے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) جیسی حکومتی پالیسیوں کی کھلی تنقید کرتی رہی ہیں۔ وہ اور ان کے والد دونوں نے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شاید اسی لیے انہیں نشانہ بنایا گیا ہے۔
بی جے پی کی معطل ترجمان نوپور شرما کے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ تبصرے کے خلاف احتجاج 10 جون کو پریاگ راج میں اس وقت پرتشدد ہو گیا جب مشتعل افراد نے مبینہ طور پر پتھراؤ شروع کر دیا اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔
اتوار کو پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) نے شہر کے کریلی علاقے میں ان کے مکان کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے جے سی بی کے ذریعے منہدم کردیا۔
آفرین جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے لسانیات میں ماسٹرز مکمل کیا ہے اور وہ پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ لینے کی منصوبہ بندی بنا رہی ہے۔ ایس ایس پی نے ان کے نام کا بھی ذکر کیا ہے ۔
ان کا نام لئے بغیر ایس ایس پی نے میڈیا والوں کو بتایا کہ جے این یو میں زیر تعلیم جاوید کی بیٹی بھی ’’مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے اور باپ اور بیٹی دونوں مل کر مہم چلا رہے ہیں۔‘‘
‘کارکنوں کے گھروں میں قابل اعتراض پوسٹرز؟
گھر کو مسمار کرنے کے بعد، ایس ایس پی اجے کمار نے میڈیا والوں کو بتایا کہ پولیس کو گھر میں ’قابل اعتراض دستاویزات‘ اور’غیر قانونی ہتھیار‘ ملے ہیں۔
آفرین نے اس کی مخالفت کی
’’ہمارے گھر پر کی جاری توڑ پھوڑ کی کارروائی ٹی وی پر لائیو تھی۔ تمام نے دیکھا کہ ہمارے گھر میں کیا کیا سامان ہے۔ گھنٹوں بعد انہیں احساس ہوا کہ ہمارے گھر میں’ غیر قانونی‘ ہتھیار ملے ہیں۔ یہ سب فرضی ہے اور میرے والد کو پھنسانے کے لیے منصوبہ بند طریقے سے کیا گیا۔‘‘
جہاں تک پولیس کی جانب سے برآمد ہونے والی بندوقوں کا سوال ہے تو اس کے بارے میں میں آپ کو بتاتی ہوں، ‘میرا بھتیجہ آتا رہتا ہے، شاید انہیں کھلونا بندوقیں ملی ہوں گی؟ مجھے نہیں معلوم… میں اس فہرست (پولیس کی طرف سے تیار کردہ)کو دیکھنے کا انتظار کر رہی ہوں۔
دی پرنٹ نے کئی بار ایس ایس پی کمار سے فون کالز اور پیغامات کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن اس رپورٹ کے شائع ہونے تک کوئی رد عمل نہیں آیا۔ جواب موصول ہونے کے بعد مضمون کو اپ ڈیٹ کر دیا جائے گا۔
گھر سے برآمد ہونے والے پوسٹروں میں ایک پوسٹرایسا بھی ہے جس سے میڈیا نے خوب اچھا لا ہے ۔ پوسٹر میں لکھا ہے : ’ جب ناانصافی قانون بن جاتی ہے تو بغاوت فرض بن جاتی ہے ۔‘
اس بارے میں پوچھنے پر آفرین تھوڑی بے چین ہو جاتی ہے اور کہتی ہے، ‘تو کیا اب کارکنوں کے گھروں میں لگے پوسٹر بھی قابل اعتراض ہیں؟‘
تشدد کے دن کو یاد کرتے ہوئے آفرین نے کہا کہ ان کے والد گھر پر تھے اور انہوں نے کسی کو احتجاج کے لیے کہیں جمع ہونے کو نہیں کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شام کو جب پولیس نے ہمارے دروازے پر دستک دی تو ہم نے محسوس کیا کہ اب وہ ہمیں پھنسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آفرین کے مطابق، ان کے والد ایک اہم مسلم آواز رہے ہیں اور انہوں نے کمیونٹی کی حمایت کے لیے اپنی کوششوں کے حصے کے طور پر کئی درخواستیں اور شکایات دائر کی ہیں۔
آفرین نے کہا کہ جاوید محمد مذہبی بقائے باہمی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے والی ایک سماجی تنظیم کے رکن رہے ہیں اور انہوں نے امن کا مطالبہ کیا ہے۔
’وہ کسی بھی قسم کے پرتشدد احتجاج میں شامل نہیں ہے۔ اب ہم اپنے گھر کی غیر قانونی مسماری اور اس کی گرفتاری کے خلاف عدالت میں لڑیں گے۔‘
ان کا گھر ملبے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ آفرین، ان کی بہن سمیہ اور والدہ پروین اس وقت رشتہ داروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔









