ممبئی: (ایجنسی)
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سابق ترجمان نوپور شرما، جنہیں پیغمبر اسلام کے بارے میں تبصرے کے معاملے میں معطل کر دیا گیا تھا، فی الحال پتہ نہیں چل پا رہا ہے۔ نوپور شرما کو لے جانے کے لئے ممبئی پولیس کی ایک ٹیم دہلی میں ہے مگر وہ مل نہیں رہی ہیں۔ مہاراشٹر کی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق ممبئی پولیس کے پاس نوپور شرما کی گرفتاری کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں۔ ممبئی پولیس کی ٹیم گزشتہ 5 دنوں سے دہلی میں ہے۔ بھیونڈی پولیس نے رضا اکیڈمی کے ایک نمائندے کی شکایت پر نوپور شرما کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا اور پولیس کے سامنے پیش ہونے کے لیے چار ہفتے کا وقت مانگا۔
اہم بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام ؐکے خلاف متنازعہ ریمارکس کے بعد بی جے پی نے 5 جون کو ملک اور دنیا کے کئی حصوں میں احتجاج کے بعد نوپور شرما کو معطل کر دیا تھا۔ پیغمبر اسلام تنازعہ کے درمیان دہلی پولیس نے بھی سخت قدم اٹھاتے ہوئے کئی لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق اس نے کچھ لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے جو مبینہ طور پر نفرت انگیز پیغامات پھیلا رہے ہیں اور مختلف گروپوں کو اکسا رہے ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان، ایک رکن پارلیمنٹ، ایک صحافی، سوشل میڈیا صارفین اور مذہبی تنظیموں کے ارکان کے نام پر دو ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اور ایم پی اسد الدین اویسی کے نام ان لوگوں میں شامل ہیں جن کے خلاف دہلی پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ اس کے علاوہ بی جے پی کی میڈیا یونٹ سے نکالے گئے نوین کمار جندل، نوپور شرما، یتی نرسنگھانند کے نام بھی ان لوگوں میں شامل ہیں۔









