پٹنہ :(ایجنسی)
اگنی پتھ اسکیم کی سب سے بڑی مخالفت بہار میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں مظاہرین نے ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ لکھی سرائے، جہان آباد، چھپرا سمیت 19 اضلاع میں پرتشدد واقعات رونما ہوئے اور ٹرینوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی بہار میں اگنی پتھ کی آگ کو لے کر کوچنگ سینٹر رڈار پر آ گئے ہیں۔ پٹنہ کے ڈی ایم چندر شیکھر سنگھ نے کوچنگ سینٹرز کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے اور قصوروار پائے جانے پر کوچنگ سینٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
پٹنہ کے ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ گرفتار کیے گئے افراد کے موبائل پر کچھ کوچنگ سینٹرز کے ویڈیو فوٹیج اور وہاٹس ایپ پیغامات ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بنیاد پر کوچنگ سینٹرز کے کردار کی جانچ کی جارہی ہے اور اگر کوچنگ انسٹی ٹیوٹ ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ڈی ایم چندر شیکھر سنگھ نے کہا، ’’ہم طلبہ سے پرامن احتجاج کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ دانا پور ریلوے اسٹیشن پر توڑ پھوڑ کے الزام میں 170 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور 46 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ تشدد کے واقعات کے بعد بہار میں پولیس الرٹ پر ہے، ریلوے اسٹیشنوں پر زیادہ تعداد میں پولیس فورس تعینات کردی گئی ہے۔ احتجاج کے دوران ریلوے املاک کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے اور مظاہرین نے کئی ریلوے اسٹیشنوں کو لوٹ لیا ہے۔
دوسری جانب اگنی پتھ اسکیم اور اس کے خلاف مظاہروں پر بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ میڈیاسے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’پرامن مظاہرہ ہونا چاہیے، نوجوانوں کو توڑ پھوڑ نہیں کرنی چاہیے، ڈی ایم کے دفتر کا گھیراؤ کرنا پڑے گا، افسران کے دفتر کا گھیراؤ کرنا پڑے گا اور اگر دہلی جانا ہے تو ہم کریں گے۔ ‘
راکیش ٹکیت نے کہا، ’’اس اسکیم کا عام لوگوں کے بچوں پر بہت زیادہ اثر پڑے گا۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ اس نوکری میں کرپشن اور استحصال بڑھے گا۔ٹیکٹ نے کہا، ’معاشی اور جسمانی زیادتی ہوگی، جس سے افسران خوش ہوں گے، وہ آگے بڑھیں گے اور اس میں بھرتی کریں گے۔ اس سے آنے والے وقت میں مسائل پیدا ہوں گے۔‘









