مرادآباد اترپردیش کے مرادآباد میں سرکاری دفتر کے غلط استعمال کے الزامات میں گھرے بلاری کے ایس ڈی ایم عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دی کوینٹ کی رپورٹ کے مطابق گھنشیام ورما پر الزام ہے کہ جب فرنیچر کے تاجرزاہد نے ان سے بل کی رقم مانگی تو اس نے تاجر کے گھر کو گرانے کے لیے بلڈوزر بھیج دیا۔ کیس میں ملزم کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد موصوف کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر بھجوا دیا گیا ہے۔معاملہ سامنے آنے کے بعد ڈیویژنل کمشنر مرادآباد نے تحقیقات کی ذمہ داری اے ڈی ایم انتظامیہ سریندر کمار کو سونپی ۔ مرادآباد کے ضلع مجسٹریٹ شیلیندر کمار سنگھ نے جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ گھنشیام ورما کو ہٹا دیا گیا ہے تاکہ معاملے کی غیرجانبداری سے جانچ ہو سکے۔
کیا ہے معاملہ ؟
الزام ہے کہ مرادآباد ضلع کے فرنیچر تاجر زاہد احمد سے ناراض ہو کر ایس ڈی ایم نے ان کے گھر کو گرانے کے لیے بلڈوزر بھیجا۔ زاہد کے مطابق مراد آباد کے ایس ڈی ایم گھنشیام ورما نے بلاری میں ان سے فرنیچر کا آرڈر دیا تھا، اس کے بعد ایک اور جگہ پر انہوں نے ہردوئی میں رہنے والی اپنی بیٹی الکا ورما کے لیے بھی فرنیچر بھیجا۔ میں نے پورا بل ایس ڈی ایم صاحب کو دیا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے بل بنایا ہے اور میں نے اسے ٹیبل پر شو پیس بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نوٹس بھیج کر بلڈوزر کی تیاری کی۔ زاہد احمد، فرنیچر کے تاجر ایس ڈی ایم نے ان الزامات کی تردید کی۔ دوسری جانب ایس ڈی ایم بلاری گھنشیام ورما نے فرنیچر کے تاجر زاہد کے تمام الزامات کو غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تالاب پر تجاوزات ہٹانے کا نوٹس پہلے ہی جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹس دینے کے باوجود قبضہ نہ ہٹانے پر کارروائی کی گئی۔









