رام پور (خاص رپورٹ)رامپور اسمبلی سیٹ پر دھاندلی، انتظامیہ پر جانبداری اور پولیس کے ظلم وتشدد ،ووٹروں کو دہشت زدہ کرنے کے الزامات کے ساتھ اب تک کی تاریخ کی سب سے کم یعنی تینتیس فیصد پولنگ ہوئ ۔لگتا ہے رزلٹ چونکانے والا ہوگا رامپور کو بلاشبہ اعظم خان کا ناقابل تسخیر قلعہ کہا جاتا ہے ان کا دبدبہ دنیا مانتی تھی حالانکہ وہ بن دنوں شدید آزمائش سے گزررہے ہیں ۔ وہ یہاں سے 10 بار منتخب ہوئے ہیں۔
اپنی دس اننگز میں وہ چھ بار ایس پی کے ٹکٹ پر اور چار بار دوسری پارٹیوں کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ اب تک ہونے والے کل 19 انتخابات میں سے کانگریس چھ بار اس سیٹ پر جیت چکی ہے۔ 1957 میں صرف ایک بار آزاد امیدوار نے یہ سیٹ جیتی ہے۔اس کے بعد مسلسل تین انتخابات میں بازی کانگریس کے ہاتھ میں رہی۔ اعظم خان نے 1980 کے اسمبلی انتخابات میں پہلی بار اس سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔
اس وقت وہ جنتا پارٹی (ایس) کے امیدوار کے طور پر انتخابی میدان میں اترے تھے۔ اس سیٹ سے 1985 میں لوک دل کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔اعظم خان 1989 کے اسمبلی انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہوئے تھے۔ اس وقت وہ جنتا دل کے امیدوار تھے۔ 1991 میں اعظم خان جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب ہوئے۔ 1993 میں پہلی بار اعظم خان نے ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا تھا۔ تاہم، وہ کانگریس کے افروز علی خان کے خلاف 1996 کا الیکشن ہار گئے تھے۔2002 سے 2022 کے درمیان ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات میں اعظم خان نے ایس پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور ہر بارجیتے۔ 2019 میں اعظم خان رام پور پارلیمانی سیٹ سے ایم پی منتخب ہوئے تھے۔
اس کے بعد انہوں نے قانون ساز اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے استعفے کے بعد ہونے والے ضمنی انتخاب میں ان کی اہلیہ ڈاکٹر تزیین فاطمہ نےکامیاب ہوئیں۔اب نفرت انگیز تقاریر کے مقدمے میں تین سال کی سزا پانے کے بعد ان کی رکنیت کو مسترد کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے ووٹنگ مکمل ہو گئی ہے۔ اس سیٹ کی پرانی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں ایس پی اور کانگریس کا غلبہ رہاہے۔
بی جے پی کو رام پور اسمبلی سیٹ جیتنا کبھی نصیب نہیں ہوا۔ایک ایک کر کے وہ فتح کے قریب ہوئاس سیٹ پر پیر کو ہوئی پولنگ میں 33.94 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ اس حوالے سے سیاسی ماہرین قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ کیا اعظم خان اپنا قلعہ بچانے میں کامیاب ہوں گے یا اس سیٹ پر پہلی بار کمل کھلے گا۔ سیاسی جماعتوں کے رہنما اپنے اپنے خطوط پر انتخابی اعداد و شمار کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ ووٹرز کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ 08 دسمبر کو انتخابی نتائج آنے پر معلوم ہو گا۔








