نئی دہلی؛گزشتہ ہفتے دہلی میں منعقدہ آل انڈیا ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کانفرنس میں، کچھ پولیس افسران نے ملک میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی میں اسلامی تنظیموں کے ساتھ ساتھ ہندو تنظیموں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
انڈین ایکسپریس میں شائع خبر کے مطابق یہ معلومات میٹنگ میں شریک عہدیداروں کے ذریعہ دی گئی دستاویزات سے سامنے آئی ہے۔
یہ دستاویزات کچھ وقت کے لیے کانفرنس کی ویب سائٹ پر دستیاب تھیں لیکن بدھ کو انہیں ہٹا دیا گیا۔20 سے 22 جنوری تک جاری رہنے والی اس کانفرنس میں پی ایم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی شرکت کی۔ان دستاویزات میں سے ایک میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کو بنیاد پرست تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔
ایک اور دستاویز میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام، ہندو قوم پرستی میں اضافہ، گائے کے گوشت پر قتل اور گھر واپسی تحریک کو اسلامی بنیاد پرستی اور پاپولر فرنٹ کے ذریعے نوجوانوں کی بنیاد پرستی کے لیے افزائش گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
کئی عہدیداروں کا یہ بھی ماننا تھا کہ مسلمانوں کو انتہا پسند بننے سے روکنے کے لیے انہیں ریزرویشن کے ساتھ ساتھ سیاسی نظام میں بھی زیادہ نمائندگی دی جانی چاہیے۔دائیں بازو کے افراد یا تنظیمیں قوم کے بارے میں انتہائی خود مختار خیال رکھتی ہیں، جس میں قوم اور اس میں رہنے والے لوگ بنیادی طور پر شناخت کی سطح پر ایک جیسے ہیں اور انہیں ایک ہی وجود میں ضم کر دیا جانا چاہیے۔ ہندوستان ایک تکثیری معاشرہ ہے لیکن یہ دکھایا جا رہا ہے کہ یہ معاشرہ اکثریت پسندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ کچھ تنظیموں کا نام بتایاگیا، یہ ہیں آنند مارگ، وشو ہندو پریشد اور ہندو سینا وغیرہ۔
اس افسر نے اسلامی بنیاد پرستی کوبھی ایک بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔اس افسر نے اپنے مقالے میں لکھا ہے – ‘اسلامی فکر بنیادی طور پر دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے، ایک طرف مسلم کمیونٹی ہے اور دوسری طرف باقی دنیا ہے۔ اس نظریے کے حامل افراد کی مثالیں جیسے PFI اور اس سے منسلک تنظیمیں، دعوت اسلامی، توحید، کیرالہ ندوۃ المجاہدین وغیرہ ہیں۔
( بی بی سی کے ان پٹ کے ساتھ)








