قاسم سید
ہندوستان کو’’دنیا کا باپ ‘‘کہنے والےمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم حضرت اقدس مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے ہندوؤں کاانتم سنسکار کرنے والے مسلمانوں کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’غیرمذہب بھائیوں کی تجہیز وتکفین اور انتم سنسکار کرنا خوش آئند ہے‘ اس کے ساتھ ہی حضرت نے شرعی تعلیمات کا خیال رکھنے کی بھی تاکید کی مگر یہ نہیں بتایا کہ دونوں میں کیا باہمی تعلق ہے۔آیا ہندوؤں کا انتم سنسکار کرنا شرعی تعلیمات کے مطابق ہے۔یہ بیان 27اپریل21کو پریس کے لیے جاری کیا گیاہے۔ علمائے جمہور اور خود اہل حدیث علماء حضرات کا اس سلسلہ میں کیا موقف ہے سب جانتے ہیں پھر بھی اگر ان کا نظریہ ان کے نزدیک مسلکی اعتبار سے درست ہےبلکہ شرعی حیثیت سے اس کی اجازت وترغیب ہے تو پھر کسی کو انگلی اٹھانے کا حق نہیں ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ گزشتہ عرصہ سے ہمارے بعض رہنماؤں پر گنگا جمنی تہذیب اور سیکولرازم کی نئی تعبیرات و توجیہات کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اس کا ظہار بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر شدومد کے ساتھ ہوا۔ یقیناً ان باتوں کا اثر عوام پر ہوتاہے، چنانچہ کئی مقامات پر باشرع اور تمام ظاہری اسلامی شناخت رکھنے والے لوگ انتم سنسکار کرتے نظر آتے ہیں ان کی ویڈیو وائرل ہو ئی ہیں۔یہ تکثیری سماج میں رہنے کا دباؤ ہے یا مدافعانہ ومداہنہ رویہ اس کا جواب تو امیر محترم ہی دیں گے۔ سوشل میڈیا پر مولانا کے اس فراخ دلانہ موقف پر سوال اٹھائے جارہے ہیں، حالانکہ اہل حدیث حضرات شرک اور توحید کے معاملہ میں بہت سخت بے لچک اور اصولی موقف رکھنے کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔








