نئی دہلی :
ملک میں کورونا کے بڑھتے معاملات کے درمیان آکسیجن سلنڈراور دوسری ضروری چیزوں کی ذخیرہ اندوزی بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ پولیس سے لے کر کورٹ تک تمام نے اس پر سخت رخ اپنارکھا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اب عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے اور وزیر عمران حسین پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے۔ انہیں ہفتہ کو دہلی ہائی کورٹ میں پیش ہونے کا حکم دیاگیا ہے۔
عمران حسین پر آکسیجن ذخیرہ اندوزی کا الزام
آکسیجن کے ذخیرہ اندوزی کے الزام میں عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے اور وزیر عمران حسین کے خلاف دائر درخواست پر دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے یہ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کل سماعت کے دوران وزیر حاضر ہوں اور بتائیں کہ انہیں آکسیجن کہاں سے مل رہی ہے ، جسے وہ لوگوں میں بانٹ رہے ہیں۔ اس معاملے میں دہلی حکومت کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ عدالت نے دہلی حکومت سے اس پر جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے وزیر کو پیش ہونے کا حکم دیا
در اصل دہلی ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران حسین نے عدالت کی ہدایت پر عمل نہیں کیا ہے اور وہ آکسیجن جمع کررہے ہیں۔ اور وہ آکسیجن کی ذخیرہ اندوزی کررہے ہیں ۔ عمران حسین اپنے گھر پر آکسیجن سلنڈر کی جمع خوری کرکے بیٹھےہیں اور وہیں وہ عام لوگوں کو آکسیجن دے رہے ہیں۔ جبکہ آکسیجن براہ راست اسپتالوں کو پہنچائی جانی چاہئے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ وزیر کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ درج ہونا چاہئے۔
عدالت میں سماعت کے دوران دہلی حکومت نے کہا کہ اپنی دلیل رکھتے ہوئے کہاکہ اس معاملے میں حکومت کا موقف بہت واضح ہے۔ چاہے وہ گوتم گمبھیر ہوں یا اگر عمران حسین اگر کوئی اصولوں پر عمل نہیں کررہا ہے تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔








