نئی دہلی :
بھارت میں کورونا وائرس کے مہلک اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ہر روز ریکارڈ اموات کے دوران حکومت زندگی بچانے والی دواؤں اور آکسیجن کی کمی کو پورا کرنے کے لئے مستقل طور پر کام کر رہی ہے۔ تاہم دوسری طرف سرکاری محکمے بھی کورونا کے علاج کے لئے تکنیک تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کورونا سے بچنے کے لئے مریضوں پر گایتری منتر کے جاپ کا کلینکل ٹرائل کر رہا ہے۔
حکومت کی تیاری کیا ہے؟
یہ اطلاع ملی ہے کہ مرکزی حکومت رشی کیش میں واقع آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) کے تعاون سے گایتری منتر پر تحقیق کر رہی ہے تاکہ اسپتال میں داخل ہونے والے کورونا کے سنگین مریضوں کا علاج کیا جاسکے۔ اس کے لیے تقریباً 20 مریضوں کو اسٹیڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ٹرائل میں شامل ڈاکٹروں نے 10-10 مریضوں کے دو گروپ بنائے ہیں۔ ان میں سے ایک گروپ کو صبح و شام پرانایام کے ایک گھنٹے کے سیشن کے علاوہ گایتری منترکا جاپ کرنے کو کہا گیا ہے ، جبکہ دوسرے گروپ کو کورونا کا اسٹینڈر ڈعلاج دیا جارہا ہے۔
ڈاکٹروں نے اس ٹرائل کومریضوں پر گایتری منتر اور پرانایام کے اثرات کو دیکھنے کے لئے کیا ہے۔ اس ریسرچ میں شامل ایمس کے پھیپھڑوں کی ماہر روچی دووا کا کہنا ہے کہ کورونا سے متاثرہ افراد کو پہلے ہی سانس لینے والی ایکسرسائز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم نے محسوس کیا ہے کہ مریضوں پر بھی گایتری منتر اور پرانایام کے اثرات کو دیکھنا چاہئے۔ اس کے کچھ فوائد ذہنی اثرات کے طور پر بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔
حکومت کی طرف سے دی گئی فنڈنگ
ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی محکمہ نے اس اسٹڈی کے لئے تین لاکھ روپے کی گرانٹ دی ہے۔ تاہم اس اسٹڈی سے دو رہنے والے کچھ ریسرچ اسکالروں کاکہنا ہے کہ وہ سرکار کے فیصلے سے بالکل بھی نہیں حیران ہوئے ہیں۔ کیونکہ کچھ سائنسداں پہلے ہی اسے قدیم ہندوستان کی روایت سے وابستہ منصوبوں کی طرف جھکاؤ کے طور پر دیکھ چکے ہیں۔ اس تحقیق کے بعد اس رپورٹ کو شائع کرنے کے بارے میں فیصلہ لیا جائے گا۔








