فوج کی حمایت سے برسر اقتدار آنے اور بعد میں جی ایچ کیو کو برا بھلا کہنے کا الزام پاکستان میں تقریباً تمام سیاست دانوں پر لگتا رہا تاہم کہا جا رہا ہےکہ عمران خان ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کےخلاف سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئے ہیں۔
سابق وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے فوج پر تابڑ توڑ حملوں نے ملک کے کئی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کردیا ہے کہ سابق کپتان جی ایچ کیو کے خلاف سب سے خطرناک سیاست دان بن کر ابھر رہے ہیں۔
عمران خان نے حالیہ دنوں میں نہ صرف آرمی چیف پر تنقید کی بلکہ انہوں نے ایک بار پھر میجر جنرل فیصل نصیر کا بھی نام لیا اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں گرفتار کر کے ان کے ساتھ شہباز گل اور اعظم سواتی جیسا کیا جائے گا۔ عمران نے ایک بار پھر اپنے قتل کی سازش کے حوالے سے بھی انکشاف کیا۔
ملک کے اندر بیٹھ کر لڑائی اس سوال کے جواب میں کہ دوسرے سیاست دانون کے برعکس عمران خان کیا جی ایچ کیو کے لیے زیادہ خطرناک سیاست دان بن کر ابھر رہے ہیں؟ لاہور سے تعلق رکھنے والے سیاسی مبصر حبیب اکرم نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان جی ایچ کیو کے خلاف سب سے مؤثر آواز ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”بے نظیر اور نواز شریف نے جی ایچ کیو کے خلاف لڑائی ملک کے باہر سے لڑی لیکن عمران خان نے یہ لڑائی پاکستان میں رہ کر لڑی، جس سے اسٹیبلشمنٹ کمزور ہوئی اور کپتان مقبول۔‘‘
خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں نے جب اسٹیبلشمنٹ کے خلاف صف آرائی شروع کی، تو انہوں نے ملک کے دوسرے طاقتور اداروں پر تنقید کو ہلکا رکھا تاکہ بیک وقت کئی لڑائیاں نہ لڑی جائیں۔ لیکن عمران خان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔حبیب اکرم کے مطابق عمران خان نے ملک کی تاریخ میں پہلی دفعہ نہ صرف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا بلکہ انہوں نے اُس میڈیا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا جو اسٹیبلشمنٹ کا اتحادی رہا ہے۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراعلٰی بلوچستان نواب سردار اسلم رئیسانی کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے راز عمران کے پاس ہیں اسی لیے اس نے اسٹیبلشمنٹ کی ناک میں دم کیا ہوا ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ماضی میں بے نظیر اور نواز شریف پر اسٹیبلشمنٹ اتنا زیادہ بھروسہ نہیں کرتی تھی۔ اس لیے انہیں بہت سارے راز نہیں بتائے لیکن کیونکہ عمران خان سے اسٹیبلشمنٹ کی بہت قربت تھی اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کے لیے اپنا دل کھول دیا۔‘‘
نواب اسلم رئیسانی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کے خلاف عمران خان کی مضبوطی کی ایک بڑی وجہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ہیں۔ ان کے بقول بیرون ملک مقیم پاکستانی، جو عمران کے حامی ہیں، نے فوج کے خلاف بھرپور مہم شروع کی ہوئی ہے اور فوج ان کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی اس لیے عمران خان کی پوزیشن مضبوط نظر آتی ہے۔
بین الاقوامی شہرت:پاکستان میں سیاسی افق پر جو رہنما نمودار ہوئے، ان میں بین الاقوامی سطح پر ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو اچھی طرح جانا جاتا ہے۔ کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ عمران خان ملکی اور غیر ملکی سطح پر سب سے شہرت یافتہ سیاستدان کے طور پر ابھرے ہیںجنرل غلام مصطفٰی کا خیال ہے کہ کیوں کہ بین الاقوامی میڈیا یا عمران خان کے ماضی کی وجہ سے ان کو بہت اچھی طرح جانتا ہے، اس لیے عمران خان کی طرف سے دیے جانے والے سیاسی بیانات کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ ان کے بقول یقیناً یہ بات اسٹیبلشمنٹ کے لیے پریشان کن ہے، ”اس کے علاوہ عمران خان بیانیہ بنانے میں بھی ماہر ہیں۔ انہوں نے جس طرح آنسو گیس کے خالی ڈبے اپنے سامنے رکھ کر بین الاقوامی میڈیا کو دکھایا، ایسا پہلے کسی سیاستدان نے نہیں کیا۔‘‘
عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملک میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے فوج کا دفاع بھی اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پی ڈی ایم خان کی پارٹی کے خلاف سخت رویہ اختیار کرے گی۔(سورس ڈی ڈبلیو)
(نوٹ: پاکستان کے معاشی وسیاسی حالات بدترین شکل اختیار کرتے جارہے ہیں جن پرپوری دنیا کی نظر ہے ۔جرمنی کی خبررساں ایجنسی ڈی ڈبلیوکا تجزیہ ایک نقطہ نظر کے طور پر دیا جارہا ہے)








