نئی دہلی :
مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کی مخالفت میں دہلی کی سرحدوں پر ملک کے الگ الگ ریاستوں سے آئے کسانوں کا آندولن گزشتہ 5 مہینے سے جاری ہے۔ 26 نومبر سے شروع ہوا یہ آندولن کووڈ وبا کے درمیان بھی جاری ہے اور سنیکت کسان مورچہ کی طرف سے یہ کئی بار واضح کیا جا چکا ہے کہ وبا کا حوالہ دے کر مرکزی حکومت اس آندولن کو بند نہیں کروا سکتی۔کسان تمام کورونا گائڈ لائن کو فالو کررہے ہیں۔ اس درمیان کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہاہے کہ 26 مئی کو یعنی جب اس آندولن کے 6 ماہ پورے ہوں گے تب سنیکت کسان مورچہ ایک بڑا فیصلہ لےگا۔
راکیش ٹکیت نے یہ بھی کہا کہ کسان کئی مہینوں سے اپنے گھروں سے دور بیٹھے ہیں، لیکن حکومت بات چیت نہیں کررہی ہے۔ راکیش ٹکیت نے غازی پور بارڈر پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’26 تاریخ کوآندولن کو 6 ماہ پورے ہو جائیں گے ۔ ہم پنجاب ، ہریانہ ، اترپردیش سے یہی کہہ کر آئے تھے کہ 6 مہینے کا راشن لے کر کسان دہلی کی طرف چلے، لیکن لگتا ہے کہ سرکار بات چیت نہیں کرے گی تو آگے کا پروگرام ہمیں بنانا ہوگا۔
راکیش ٹکیت نے مزید کہاکہ ’26 تاریخ کو ایک بڑافیصلہ کسان تنظیم لے گی اور مورچے کو آگے بڑھایا جائے گا۔ راشن، پانی پھر لے کر آئیں گے ہم۔ بتادیں کہ زرعی قوانین پر سرکار اور کسان تنظیموں کے درمیان کئی دور کی بات چیت ہوچکی ہے، لیکن اس سے کوئی حل نہیں نکلا ۔ آخری بار دونوں فریق کی میٹنگ جنوری کے آخر دنوں میں ہوئی تھی اور تب سے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
راکیش ٹکیت نے یہ بھی الزام لگایا کہ کسانوں کو لے کر غلط تشہیر کی جا رہی ہے کہ وہ کووڈ گائڈ لائنس پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہاں لوگ صحیح سماجی دوری بنا کر رکھتے ہیں اور کووڈ کے تمام گائڈ لائنس فالو کرتے ہیں۔ غلط تشہیر کی جارہی ہے کہ لوگ یہاں کووڈ قوانین کو نہیں مان رہے ۔ گاؤں سے زیادہ لوگ قوانین کو مان رہے ہیں۔ راکیش ٹکیت نے بتایا کہ آندولن کررہے کسان ویکسین بھی لگوا رہے ہیں۔
کسان تحریک کافی عرصے سے بڑے پیمانے پر چل رہی ہے اور وقتاً فوقتاً اس کی مالی اعانت کے بارے میں بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ حال ہی میں جب پربھو چاولہ نے اپنے شو سدھی بات میں راکیش ٹیکت سے اس کی فنڈنگ کے بارے میں پوچھا تو ان کا جواب تھا ، ‘ کہاں چاہئے پیسہ؟ کیا خرچ ہوتا ہے؟ خرچ ہی بتاؤ کیا ہوتا ہے۔ میں روٹی کھاتا ہوں، میں نے گاؤں سے کہہ دیا ہے کہ جو دال روٹی میں کھاتا ہوں وہ اناج یہاں بھیج دو۔ دال روٹی پر آندولن چل رہاہے۔








