امریکہ میں ریاست نیوجرسی میں مسجد میں فجر کی نماز کے دوران امام مسجد پر چاقوؤں سے حملہ کردیا گیا۔ اتوار کے روز ایک نوجوان نیو جرسی کے شہر پیٹرسن کی مسجد ’’عمر بن الخطاب‘‘ میں گھس آیا اور سیدھا وہاں گیا جہاں مصری شیخ "سید نقیب” نماز پڑھا رہے تھے اور ان پر چاقو سے بار بار وار کر دئیے۔ حملہ آور نے نمازیوں کی صفوں میں گھس کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن کچھ نمازیوں نے اسے پکڑ لیا۔ اس حملے کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے۔ اس ویڈیو کو مسجد کے اندرونی نگرانی کے کیمرے سے حاصل کیا گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسجد کے ایک ترجمان نے بتایا کہ "جب ہم نماز کے دوران سجدے میں جارہے تھے تو اس شخص نے چاقو نکالا اور امام کی طرف بڑھا اور ان کی پیٹھ پر کئی وار کر ڈالے” انہوں نے مزید کہا متعدد نمازیوں نے اسے اس وقت تک پکڑے رکھا جب تک کہ پولیس وہاں نہ پہنچ گئی اور اسے گرفتار کر لیا ۔ بعد میں بتایا گیا کہ حملہ آور کا نام شریف زوربا ہے اور اس کی عمر 32 سال ہے۔
امام مسجد سید نقیب کی عمر 65 سال ہے اور انہیں قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا وہاں چاقو کے زخموں کا علاج جاری ہے۔ شریف زوربا پر قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حکام نے تحقیقات شروع کردی ہیں اور حملہ کے محرکات کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے واضح ہوا ہے کہ شریف زوربا حملے سے پہلے کئی مرتبہ مسجد میں جا چکا تھا۔
ریاست نیو جرسی کی سب سے بڑی مسلم کمیونٹی پر مشتمل شہر "پیٹرسن” کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں آبادی کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد امریکی کی کسی بھی دوسری ریاست سے زیادہ ہے۔ ریاست کا میئر لبنانی نژاد اندریہ صایغ ہے۔ یہاں کا چیف جسٹس فلسطینی نژاد عبد المجیدعبد الھادی ہے۔ پولیس چیف ترکی نژاد ابراہیم مائیک بایکورا ہے۔








