بلقیس اجتماعی عصمت دری اور قتل عام کیس میں جانچ کے دوران سی بی آئی کو بلقیس کے کنبہ کے افراد کی لاشیں ملیں جنہیں نمک پگھلا کر تلف کرنے کے لیے دفن کیا گیا تھا۔ ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ سیشن کورٹ نے سی بی آئی کے شواہد کو بنیاد بنایا اور سزا سنائی۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے بھی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد سزا کو برقرار رکھا۔
بلقیس کے مجرموں نے 44 بار ضابطہ شکنی کی،ضوابط توڑے جرمانہ ادا نہیں کیا۔ ان کی رہائی کا معاملہ بہت الجھا ہو ہے ہندی روزنامہ ‘دینک بھاسکر’ نے اپنے ذرائع اور ‘خفیہ دستاویزات’ کے حوالے سے بلقیس کے مجرموں کی رہائی کے سربستہ راز سے پردہ اٹھایا ہے،ان دنوں سپریم کورٹ میں مجرم ‘سنسکاری برہمنوں’ کی قبل از وقت رہایی کا معاملہ زیر سماعت ہے.جس نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا تھا
دینک بھاسکر’ نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بلقیس بانو کے خلاف سنگین جرم کی نوعیت گجرات حکومت کی دستاویز میں چھپائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلقیس بانو کی ساڑھے تین سالہ بچی کو پیٹ پیٹ کر قتل کرنے، ایک دن کی بچی کے قتل کرنے اور حاملہ بلقیس بانو سے اجتماعی عصمت دری جیسی تفصیلات کا ذکر دستاویزات میں نہیں ہے۔ اس واقعہ میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری بھی کی گئی تھی۔
دینک بھاسکر کی رپورٹ میں دستاویزات کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’فیصلے کی کاپی کے مطابق کار سیوکوں سے بھری سابرمتی ایکسپریس ٹرین کی بوگیوں کو نذر آتش کرنے کے بعد گودھرا میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔ متاثرین اور ان کے اہل خانہ تشدد سے بچنے کے لیے رندھیک پور گاؤں سے دوسری جگہ جا رہے تھے۔ ان پر ہندوؤں کے ہجوم نے قیصر باغ کے جنگل میں حملہ کر دیا۔ اس دوران متاثرہ کی عصمت دری کی گئی اور دیگر مسلم خواتین کو قتل کر دیا گیا۔‘‘
اس کے علاوہ ان دستاویزات میں قانونی خامیاں بھی موجود ہیں۔ دراصل، گجرات حکومت کو مجرموں کی رہائی کے لیے 5 متعلق افراد یا اداروں کی رائے لینے کی ضرورت تھی۔ رپورٹ کے مطابق 5 میں سے 3 متعلقین نے اس گھناؤنے جرم کے مجرموں کی رہائی کی منظوری دی، تاہم دو نے جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے قبل از وقت رہا نہ کرنے کی رائے دی۔ پانچ متعلقین میں پہلا، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہے، متاثرہ یعنی بلقیس ہے، دوسرا، تفتیشی ایجنسی یعنی سی بی آئی، تیسرا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، چوتھا، وہ عدالت ہے جس نے سزا سنائی اور پانچواں، وہ جیل ہے جس میں مجرمین فی الحال قید تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ پانچ میں سے وہ دو متعلقین کون ہیں جنہوں نے مجرموں کی رہائی کے فیصلے پر اتفاق نہیں کیا۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اسپیشل کرائم برانچ اور سی بی آئی نے مجرموں کو رہا نہ کرنے کے حق میں رائے دی تھی۔ سی بی آئی نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ یہ جرم اتنا سنگین اور گھناؤنا ہے کہ بغیر کسی رحم کے ہم اس معاملے میں اپنی رائے منفی دیتے ہیں۔ سی بی آئی نے کہا تھا کہ مجرم کو وقت سے پہلے رہا نہیں کیا جانا چاہئے۔بلقیس بانو کے علاقے کے پولیس سپرنٹنڈنٹ، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور جیل نے مجرموں کی رہائی کے حق میں اپنی رائے دی۔ غور طلب ہے کہ مجرموں میں سے ایک، جس کا نام رادھے شیام شاہ ہے، کی رہائی کی سفارش ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بھی نہیں کی تھی ساتھ ہی ممبئی سیشن کورٹ نے حکومت کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قتل اور اجتماعی عصمت دری کے گھناؤنے جرم میں سزا کاٹ رہے قیدیوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ حکومت کے قوانین کے مطابق قیدیوں کو کسی بھی صورت میں رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔
۔ ‘دینک بھاسکر’ کے انکشافات سے کئی سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔







