تحریر:مسعود جاوید
ڈاکٹر ذاکر نائیک ہوں یا کوئی اور داعی اسلام ، علماء کو ان کی لغزشوں یا اجتہاد کی کوششوں پر ناصحانہ انداز میں اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ ان کی خدمات کو یکسر ناقابل قبول کہتے ہوئے ان پر لعن طعن کرنا چاہیے ۔
مفتی تقی عثمانی صاحب ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب سے ملیشیا میں ملاقات اور بالمشافہ گفتگو کا ماجرا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ میں آپ کی دینی خدمات اور دعوتی مشن کی ہمیشہ ستائش کرتا ہوں لیکن آپ کی بعض باتیں قابلِ اعتراض ہوتی ہیں ان پر ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرتا ہوں۔ آپ دعوت دین کے میدان میں جو کام جس انداز میں انجام دے رہے ہیں بہت سے علماء وہ کام کرنے سے قاصر ہیں تاہم دعوتِ دین اور فقہ دین دو الگ الگ میدان ہیں۔ مناسب ہوگا آپ فقہ دین پر کلام سے احتراز کریں ۔ ڈاکٹر صاحب نے سر تسلیم خم کیا اور عقیدت مندوں میں ہو گئے۔
ان دنوں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشیل انٹلیجنس)کے لئے مختلف موضوعات پر مواد جمع و ترتیب دینے کا کام ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ دانستہ یا غیر دانستہ بعض غیر صحیح باتیں اور نصوص ان اداروں تک پہنچ جائیں اور جواب کا حصہ بن جائیں، ایسے علماء کرام جو دین اسلام کے مختلف موضوعات پر دسترس رکھتے ہیں وہ متعلقہ اداروں سے رابطہ کر کے صحیح معلومات پر مبنی مواد فراہم کریں۔
ظاہر ہے مسلکی و مشربی اختلافات کی وجہ سے یہ کام بہت آسان نہیں ہوگا تاہم بغیر مسلکی تعصب کے ، دیانت داری سے کسی مسلک کو برتر یا کمتر کہے بغیر مسائل بیان کرنا بہت مشکل نہیں ہے۔
مواد ایسا جامع و مانع ہوں جو عام انسان؛ مسلم وغیر مسلم کے شرح صدر کے لئے کافی ہوں۔ عموماً دینی مدارس کے اساتذہ و فارغین فقہی موشگافیوں کے عادی ہوتے ہیں اس تدریسی اسلوب سے ہٹ کر معروضی انداز میں بات رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے لئے علماء کی ٹریننگ کی بھی ضرورت ہو گی تاکہ وہ ٹو دی پوائنٹ بات رکھ سکیں۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ ان اداروں میں کسی اور سورس سے ریکارڈنگ کے بعد ہمارے اعتراضات کی رسائی اتنی نہیں ہو سکتی ہے اور نہ ہمارے پاس اتنے وسائل ہیں۔







