نئی دہلی:
مدراس ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سیکولر ملک کے لئے مذہبی عدم رواداری کی اجازت اچھی بات نہیں ہے اورایک مذہبی گروہ کے ذریعہ کی گئی ’مخالفت ‘ فساد اور تنازعات میں تبدیل ہوسکتی ہے ،اگر دیگر گروہ کے ذریعہ بھی باہمی بحث کا رویہ اپنایا جائے۔
جسٹس این کیروبکرن اور جسٹس پی ویل مورگن کی بنچ نے یہ تبصرہ ایک درخواست پر سماعت کے دوران کیا جس میں تمل ناڈو کے پیرامبلور ضلع کے کلاتھور گاؤں میں گرامین کے ذریعہ مندر سے متعلق جلوس کو ایک خاص راستہ سے نکالنے کو لے کر عرضی دائر کی گئی تھی، جس کامقامی مسلمان مخالفت کررہے تھے۔
عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں کہاکہ ’تیسرے مدعا علیہ (پولیس سپرنٹنڈنٹ) کے حلف نامے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2011 تک متعلقہ مندر کے تین روزہ جشن کا انعقاد پُرامن طریقے سے ہوتا رہا اور سال سے 2012 کے بعد سے مسلمانوں نے کچھ ہندو تہواروں کو گناہ قرار دیتے ہوئے اعتراض درج کرانا شروع کر دیا ہے۔
عرضی گزار نے مندر کے جلوس اور جشن منانے کے لئے سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے پولیس سے رابطہ کیا ، جسے مشروط طور پر منظور ی دی گئی۔
ججوں نے پایا کہ سال 2012 سے پہلے مندر کا جلوس گاؤں کی تمام گلیوں سے گزرتا تھا اور کوئی پریشانی نہیں تھی۔
بنچ نے کہا کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور اس وجہ سے کہ کسی خاص علاقے میں ایک مذہبی طبقے کی اکثریت ہے ، دوسرے مذاہب کے لوگوں کو تہوار منانے یا جلوس نکالنے سے نہیں روکا جاسکتا۔
عدالت نے کہا کہ ‘ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور صرف اسی بنیاد پر کہ ایک خطے میں ایک مذہبی طبقہ کی اکثریت ہے ، دوسرے مذہب کے لوگوں کو تہوار منانے یا جلوس نکالنے سے نہیں روکا جاسکتا۔
بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایک مذہبی برادری کے ذریعہ اس طرح کی مداخلت کی جاتی ہے تو اس کے بدلے میں دوسرے طبقے بھی آگے چل کر اسی طر ح کا قدم اٹھائے گا۔ نتیجتاً چاروں طرف افرا تفری ، فساد ، مذہبی لڑائیاں ہوں گی۔ جس سے جان ومال کانقصان ہوگا اور جائیدادوں کی بربادی ۔
ڈسٹرکٹ میونسپل ایکٹ 1920 کے سیکشن 180-Aکے مطابق تمام مذاہب ، ذات یا نسل کے لوگوں کو سڑکوں یا گلیوں کو استعمال کرنے کی اجازت ہے۔








