2024 میں اگر حالات اسی طرح رہے تو بھارت نہ تو مجاہدین آزادی کے خوابوں کا رہ پائے گا نہ آزادرح، مدنی رح کا ہندستان ،بلکہ ساورکر، گولولکر کا ہندو استھان بن جائے گا، مسلم سماج میں کسی حد تک مایوسی اور غصہ کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، ہمارے یہاں زیادہ زور اس پر ہے کہ یہ نہیں کرنا چاہیے وہ نہیں کرنا چاہیے، اس پر توجہ نہیں ہے کہ یہ کرنا چاہیے وہ کرنا چاہیے، تنظیموں، اداروں میں سیاست اور باہمی چپقلش کے سبب کام کے افراد کو آگے نہیں بڑھایا جاتا ہے ہم نے پرسوں ایک چینل پر دو مبینہ مسلم اسکالر سے پوچھا کہ آپ لوگ گیان واپی مسجد جو اصل میں جامع مسجد بنارس ہے پر بحث میں حصہ لینے آتے ہیں، اس کے بارے میں کیا پڑھا ہے، تاریخ کی کوئی کتاب پڑھی ہے، جواب نفی میں تھا، ایک نے کہا کہ میں اردو نہیں جانتا ہوں، اگر آپ کی کتاب ہندی میں ہوتی تو لے کر مطالعہ کرتا، دوسرے نے کہا کہ لے کر دیکھوں گا، یہ مدرسہ، یونیورسٹی کسی کا تعلیم یافتہ نہیں ہے، ہم نے چینل کے کرتا دھرتا کے سامنے اعتراض کیا ہے کہ مندر فریق کا وکیل ہر جگہ نظر آتا ہے لیکن مسجد کی طرف سے کوئی وکیل کہیں نظر نہیں آتا تو کہا گیا کہ مسجد کی طرف کا وکیل بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ہے، اس صورت حال میں عوام تک پوری بات نہیں پہنچ پاتی ہے اور الگ طرح کی ماحول سازی ہوتی ہے۔اس سے ججز بھی متاثر ہوتے ہیں کہ وہ بھی سماج سے نکل کر آتے ہیں، بی جے پی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی نے کہا کہ مسجد کی جگہ۔مندر ہونے کے تاریخی شواہد ہیں، ہم نے کہا کہ آپ سب لوگ مع مندر فریق کے وکیل وشنو شنکر جین ایک تاریخ کی کتاب کا نام بتا دیں جس میں مندر توڑ کر مسجد بنانے کی بات ہو، اس کا جواب کسی کے پاس نہیں تھا، ہم نے کہا کہ ہندوؤں نے تاریخ لکھنے کا کام ہی نہیں کیا ہے تو وہ ہمیں تاریخ کیا بتائیں گے، ہم نے اپنی کتاب جامع مسجد بنارس گیان واپی، حقیقت اور کہانی میں، اسی نوے کتابوں کے حوالے سے بحث کی ہے، ان میں اسکند پران، ماثر عالمگیری بھی شامل ہیں، آر ایس ایس، بی جے پی میں ایک بھی آدمی نہیں ہے جو تاریخی استناد کے ساتھ بحث کر سکے، حتی کہ مودی، یوگی بھی نہیں، پروگرام کے بعد خاتون اینکر نے کہا کہ سر ہمیں تو اور کچھ معلوم تھا آپ تو دوسری باتیں کر رہے ہیں ہمارے یہاں سب کہتے ہیں کہ نعمانی جی ودوان آدمی ہیں ہم نے کہا کہ ہم طالب علم ہیں، ودوان آدمی کو صحیح موقع کہاں دیا جاتا ہے، آپ جس جس کو چاہیں بلا لیں اور تاریخ اور ہندو روایات و درشن کے حوالے سے بات کر لیں، راست پروگرام ہو، ہمیں بھی سوال جواب کا موقع دیا جائے، اس پر کہا کہ یہ ہونا چاہیے لیکن یہ کیا نہیں جا رہا ہے، ہم نے کہا کہ ہر جگہ کھیلا ہو رہا ہے، لیکن ہمارے لوگ اسے سمجھ نہیں رہے ہیں، مطالعہ و تحقیق، بحث سے پہلے کیا جاتا ہے، بحث کے بعد نہیں، بغیر جانے بولنا غیر ذمہ دارانہ حرکت ہے، مسلم سماج میں مطالعہ کا ذوق اور ذمہ داری کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جب تک اہل لوگ سامنے نہیں آئیں گے تب تک نااہل حاوی رہیں گے,ایک دوسرے کا تعاون کریں گے، علم والے علم سے اور مال والے مال سے، ہمیں، ہار نہیں مانیں گے، ہم ہوں گے کامیاب ایک دن، کے جذبے سے کام کرنا چاہی








